گلالئی کے الزامات اور عمران خان صاحب کا ہاضمہ!

وطن عزیز میں جمہوریت کی کشتی ہمیشہ سے بھنور کی زد میں ہے۔کبھی بھنور اس کو کئی سالوں کیلئے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور یہ پھر ٹوٹی پھوٹی حالت میں سطح آب تک آنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ گویا بھنور اور کشتی کی جنگ تاحال جاری ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62,63 کے تحت نااہل قرار دیکر گھر بھیجاجا رہا تھا اور ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ خوشی کے ڈونگرے بجانے والے ہمارے جیالے اور جنونی کل اسی آرٹیکل کی زد میں آکر شہید ہو رہے ہوں گے تو ان کا رد عمل کیا ہو گا۔ وہی ردعمل دیکھنے میں آیا جب تحریک انصاف کی رہنما عائشہ گلالئی نے پارٹی کے چیئر مین عمران خان کو 2نمبر پٹھان کہا اور کئی الزامات لگائے جیسا کہ وہ پاکستان کو انگلینڈ سمجھتے ہیں ٗ گندے میسج کرتے ہیں ٗ پارٹی رہنماؤں کی کرپشن کی سرپرستی کرتے ہیں ٗان سے خواتین کو عزتوں کی پامالی کا خطرہ  ہے وغیرہ وغیرہ۔

عائشہ گلالئی کی پریس کانفرنس کو پاکستان میں سیاسی رنگ میں رنگ دیا گیا ۔ اکثریت جج بنی ان کے الزامات پر فیصلے سنا رہی ہے لیکن اگر اس معاملے کو سیاسی محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو یہ ایک ورکنگ لیڈی کی اپنے باس کیخلاف جسمانی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے کہ جب کوئی خاتون اپنی چار دیواری سے باہر نکلتی ہے تو اس کو معاوضہ ،عہدہ کے بدلے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے  باس  کی بات تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ جب ورکنگ وویمن کو پروفیشنل لائف میں کوئی کامیابی اس قربانی کے بغیر مل جاتی ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے افسران بالا کی طرف سے ملنے والی آفرز کو نظر انداز کرے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس نے اس پر کوئی ایکشن لیا تو اس کی پوزیشن خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں ۔ ایک : وہ اس آفر کا مثبت جواب دے ۔ دوم : وہ اس آفر کو نظر انداز کردے جب تک وہ ایسا کر سکتی ہے۔
اب بات کرتے ہیں عائشہ گلالئی کیس کی ۔ پارٹی کی جانب سے ٹکٹیں ملنا ابھی شروع نہیں ہوئیں اور نہ ہی کسی بھی پارٹی میں ابھی اس کشمکش کا آغاز ہواٗ اس لئے یہ الزام درست نہیں ۔ عائشہ گلالئی اگر سچ بول رہی ہیں تو وہ عمران خان کی طرف سے میسجز کو نظر انداز کر رہی تھیں اور تیسری بات انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ (ن) لیگ جوائن نہیں کر رہیں۔

قرین قیاس ہے کہ عائشہ کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہوں لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سچ بول رہی ہوں ۔  کیونکہ عمران خان کو قریب سے جاننے والے ان پر کرپشن کے الزامات عائد نہیں کر سکتے ویسے ہی ان کی بے راہروی کی گواہی بھی نہیں دے سکتے ۔ عمران خان اپنی اکثر تقاریر میں قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ اور خلفاء راشدین کے دور کی مثالیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے اکثر بیانات میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ماضی کوئی اتنا شاندار نہیں رہا کہ جسے نوجوان نسل اپنائیں۔ ایک ٹی اینکر نے جب ان سے ان کی مبینہ بیٹی کے بارے میں سوال کیا تو عمران خان  نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ اس کا جواب نہیں دیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ عمران خان صاحب کسی اصول کے تحت سیاست نہیں کر رہے بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف طاقت کے محور تک رسائی ہے۔

جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑنے کے بعد خان صاحب پر الزام لگایا کہ وہ کسی اورکے اشاروں پر سیاست کررہے ہیں ۔ ناز بلوچ نے الزام لگایا کہ پارٹی میں خواتین کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔  ریحام خان نے عمران خان کے گھر میں اپنی بیٹیوں کی عزت محفوظ نہ ہونے کا سوال اٹھایا لیکن اب پی ٹی آئی کی ایم این اے عائشہ گلالئی نے تو سب کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔

پختون فیملی سے تعلق رکھنے والی عائشہ گلالئی نے عمران خان کو 2نمبر پٹھان کہا ہے کہ ان پر الزام لگایا ہے کہ’’پارٹی چیئر مین عمران خان کی وجہ سے پارٹی میں عزت دار خواتین اور خاندانوں کی عزت محفوظ نہیں۔ہم ایک پختون گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عزت اور غیرت ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہیں۔ یہاں پر دو نمبر پٹھان ہیں۔ آرٹیکل 62,63 اگر ملک کے سربراہ پر لاگو ہوتا ہے تو وہ اخلاقی طور پر کرپٹ شخص پر بھی لاگو ہوتا ہے۔میں کافی عرصے سے اس چیز کو برداشت کرتی رہی ہوں اور بہت ساری خواتین کو اس پارٹی میں فیس کرنا پڑتا ہے۔میں پارٹی چھوڑ رہی ہوں کیونکہ پارٹی کے چیئر مین کی جو حرکتیں ہیں یہ انگلینڈ نہیں پاکستان ہے اور مغربی کلچر یہاں پر نہیں لایا جا سکتا۔‘‘

عائشہ گلالئی نے پریس کانفرنس میں جو باتیں بھی کی ہیں وہ سچ ہو سکتی ہیں اور بعید قیاس ہے جھوٹ بھی ہوں۔ لیکن چاول کا جو ایک دانہ ایک عائشہ گلالئی نے چکھایا ہے اس کے بعد تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ دیگ خان صاحب کا ہاضمہ ضرور خراب کر دے گی۔ شاہ محمود قریشی نے تو کہا تھا کہ (ن) لیگ والوں کا ہاضمہ بڑا مضبوط ہے کیونکہ انہوں نے بہت کھایا ہے۔ اب دیکھتے ہیں خان صاحب کا ہاضمہ کتنا مضبوط ہے کیونکہ شاید وہ کھا نہ سکے ہوں لیکن چکھنے کی کوشش تو انہوں نے بھی کی ہے۔

بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے  اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

اویس غوری کالم نگار،صحافی اور بلاگر ہیں