کیا عوام بھی نااہل ہے؟

جو قوم کرپٹ ہو جائے یا کسی درجےکرپشن میں مبتلا ہو تو اس قوم کی ترجیحات بھی کرپشن پر ہی ہوتی ہیں۔پھراسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ قاعدہ قانون کیا ہے یا اس کا دائرہ کار کیا ہے۔  اسے صرف کرپشن کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے آگے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رہتی۔ پر دنیا تو دارالامتحان ہے، دارالجزا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کا امتحان بھی اسی میں لیتے ہیں جس طرف ایسی قوم کا قلبی اور ذہنی رجحان ہو۔

قرآن مجید  میں ایک ایسی ہی قوم کا ذکرآیا ہے جو بنی اسرائیل میں سے تھی اور کسی سمندر کنارے بستی تھی۔ اس قوم کے لوگوں کی معیشت کا نظام مچھلیوں کے کاروبار پر منحصر تھا جبکہ ان پر ہفتے کےروز  مچھلیوں کے شکارپر ممانت تھی۔انکا امتحان یہ تھا کہ عام دنوں میں مچھلیاں بہت کم ہوتیں اور ہفتے والے دن مچھلیاں بہت زیادہ آتیں جبکہ ہفتے کے دن شکار ان پر منع تھا۔اب ہوا یہ کہ انہوں نے اس مسئلہ کا حل تلاش کیا اور نہ ہی تھوڑے پر صبر و شکر کیا۔  انہوں نے سمندر کے کنارے حوض بنائے اور سمندر سے نالیاں نکال کر حوضوں میں چھوڑ دیں پھر جب ہفتے کا دن آتا تو وہ ان نالیوں کے منہ کھول دیتے اور مچھلیاں جو کہ ہفتے کے روز بہت زیادہ ہوتیں وہ ان حوضوں میں آجاتیں تو وہ ان نالیوں کے منہ بند کر دیتے۔پھر وہ لوگ اتوار کے روز ان مچھلیوں کو پکڑتے تھے۔ یقیناً تقسیم کے اعتبار سے اس قرآنی واقعہ میں اصلاح کے بہت سے پہلو ہوں گے مگر یہاں جو بات بتانا مقصود ہے وہ اس قوم کا کرپٹ رویہ ہے۔

اگر دیکھا جائے توآج ہمارے معاشرے کی مجموعی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اکر کسی نے کسی کے 100 روپے لوٹانے ہوں تو وہ اسے دیکھ کر اپنا راستہ تو تبدیل کرلیتا ہے مگر 100 روپے واپس کرکے سرخرو نہیں ہوتا۔ نچلے طبقے کے لوگوں سے لے کر حکمرانوں تک سبھی ایک ہی رویےکے مالک ہیں لیکن اس خوش فہمی میں جی رہے ہیں کہ دوسرا ہی برا ہے اور ہم خود دوسرے سے بہتر ہیں جبکہ ذہنی طور پر ہم سب من حیث القوم کرپٹ ہیں۔
یہ کسی ایک نااہل وزیراعظم یا اپوزیشن کا معاملہ نہیں بلکہ عمل اور طرز عمل یہ ہے کہ آئے، بس آئے قطع نظر اس سے کہ حرام سے آئے یا حلال سے۔ اور اس لالچ سے پھر آفتیں بھی آتی ہیں اور امتحان بھی۔ ابھی حال ہی کی بات ہے ہماری قوم نے سانحہ احمدپور شرقیہ دیکھا۔
مختلف اخبارات،سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر اس سانحہ پر الگ الگ لکھا گیا ،کسی نے عوام کو غریب اور مظلوم ظاہر کیا تو کسی نے سارا الزام حکومت اور سکیورٹی فورسز پر لگا دیا۔ کسی نے کہا کہ یہ حادثہ سزا کے طور پر پیش آیا کیونکہ اسی جگہ کسی مظلوم کو زندہ جلایا گیا تھا۔ تو کسی نے یہاں تک بھی بتایا کہ مسجد سے مولوی صاحب نے اعلان کیا تھا کہ ''حضرات ! پٹرول کا ٹینکر الٹ گیا ہے سب آ کر اپنے برتن بھرلو'' ۔
یعنی آج ہم غلط کو غلط تصور ہی نہیں کرتے اور صحیح کے معیار ہی ہم نے بدل ڈالے۔ جب ہماری عمومی کیفیت یہ ہے کہ ہم سب ذہنی اور فطری طور پر کرپٹ ہو چکے ہیں تو پھر کیوں نہ ایسی قوم پر عذاب نازل ہو؟ کیوں نہ ہم پر نواز شریف، آصف زرداری اور پرویز مشرف جیسے حکمران مسلط کئے جائیں؟ جس قوم کے رویوں میں اس قدر کرپشن رچ بس گئی ہو تو پھر ایسی قوم کا میرٹ بھی کرپٹ اور مینڈیٹ بھی کرپٹ۔

اور قابلِ افسوس بات یہ ہے ہم اس کرپشن کی دوڑ میں اتنے آگے نکل آئے ہیں کہ اصلاح کے تمام دروازے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے بند کردیئے ہیں۔ آج جب احتساب کا نعرہ بلند ہوا تو لوگ اس آواز کو دبانے بھی نکل آئے ہیں۔ لوگ جواب دیتے ہیں۔ دلیلیں دیتے ہیں۔ جواز گھڑ رکھے ہیں۔ سبھی چور کو فرار کا راستہ دینا چاہتے ہیں۔ اس قدر خائف ہیں کہ کہیں یہ احتساب کی رسم ان کے گلے کا پھندا نہ بن جائے۔ اتنی سی بات نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ اگر احتساب کا طریقِ کار رائج ہوا تو اس میں صرف کوئی سیاسی شخصیت یا جماعت ہی نہیں آئے گی بلکہ ہر وہ شخص آئے گا جو کسی بھی حوالے سے کرپشن میں ملوث ہو۔ لیکن نہیں کیونکہ اگر یہ سلسلہ چل پڑا تو کل خود کاگریبان بھی چاک ہوسکتا ہے۔اور اگر یہ سب سچ ہے تو کیا فرق ہےاِس قوم میں اور اُس میں جسے اللہ تعالی نے امتحان کے نتیجے میں بندر بنا دیا؟

بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے  اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

فہد مسعود قریشی صحافی،بلاگر ہیں

انکا ٹوئٹر اکاونٹ  @aadifahad