نیا سال مگر۔۔۔ !

نئے سال کے آغاز کو منانے کی روایت میں ہر سال جدّت کے ساتھ ساتھ جوش میں بھی اضافہ ہوتا دیکھائی دیتا ہے۔ میں محوِ حیرت ہوں کہ ہم نئے سال کی آمدپر خوشیاں منا رہے ہیں یا پھر گزرے سال کا غم بھلا رہیں ہیں کہ جانے وال سال دینے کے بجائے ہم سے لیکر بہت کچھ جا رہا ہے۔ لیکن یہ گزرا سال ہمیں دیتا بھی تو کیا۔ وہی ہر گزرے سال کی طرح پرانے وعدے ، دعوے،تسلیاں، غربت اور مہنگائی میں اضافہ، امن کی خواہش اور بہت کچھ۔۔!

کسی اور چیز کا تو پتہ نہیں مگر ہم صرف ایک ہی طرح کے مسائل کو بہت مستقل مزاجی کے ساتھ ایک سال ساے دوسرے سال میں ڈھالتے ہیں۔گزرا سال بھی عوام کی طرح تہی دامن رہا اور نئے سال سے بھی امید کچھ مختلف نہیں۔شاید اسی لیے فیض صاحب بہت پہلے کہہ گئے تھے۔

تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی،شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال بہت
ماہ و سال گزر رہے ہیں اور انسانی فطرت میں آگے بڑھنے کی خواہش مزید پروان جڑھ رہی ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کے لئے انسان طرح طرح کے طریقے اپناتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنے مخالف کو چھوٹا بنا نے کی کوشش کی جائے دھوکہ دہی اور بد نیتی کے ساتھ کم سے کم وقت میں زیادہ نفع حاصل کیا جائے۔ چند دن پہلے حکومت ہی نے رپوٹ جاری کی کہ ملک میں چلنے والے پچاس بناسپتی گھی کے کارخانے مضر صحت گھی تیار کر رہے ہیں ۔ ملک میں بکنے والااسی فیصد دودھ ، دودھ نہیں بلکہ مختلف کیمیکلز کا مرکب ہے۔ پھر جا کے مجھے سمجھ میں آیا کہ ہم رشوت کو چائے پانی کا نام کیوں دیتے ہیں۔

یہ تو ہے ہماری عوام کا حال، ساری زندگی ملک کو کوستے گزار دیتے ہیں کبھی خو د کے کیے کے بارے میں نہیں سوچتے ۔

جب ہم خود اپنے ساتھ منصف نہیں تو ہمارے حکمران طبقہ کو کیا پڑی ہے ہم عوام کی فکر کرنے کی۔ حکمرانِ وقت تو اپنا علاج کروانے ملک سے باہر جاتے ہیں۔ پیچھے سے یہی عوام ، جسے اپنے علاج کے لیے دو دو سال بعد کا وقت ملتا ہے، ان حکمرانوں کی صحتیابی کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کے بجٹ کا ایک بڑا حصّہ صرف ایک شہر پر لگا دیا جاتا ہے اور باقی صوبے کے لوگ اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کرتے بلکہ اپنے علاقے سے کئی کئی میل دور بننے والی میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین پر دھمالیں ڈالتیں ہیں ۔ درحقیقت، یہ عوام نہیں بلکہ عہدِجہالت ہماری کم عقل پر محوِ رقص ہوتا ہے۔ ملک میں آنے والے زلزلے اور سیلاب کو ہم صرف اللہ کا کیا قرار دیتے ہیں ۔ اپنی کوہتایوںکو شاید ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
بلوچستان کی محرومی کی داستان بھی اب الف لیلیٰ لگنے لگی ہے۔ وزارت اعلیٰ کا سفر عبدالمالک بلوچ سے چل کر ثنااللہ زہری تک پہنچا تو یہ ثابت ہوا کہ بلوچستان میں اگر بھوک ہے تو صرف اقتدارکی ہے ۔ جس بلوچستان میں پیاس کا یہ عالم ہے کہ میلوں سفر کے بعد اگر کوئی گھاٹ مل جائے تو غنیمت ہے اور اسی بلوچستان کے ایک بائیس گریڈ کے افسر کے گھر سے ایک ارب روپے سے زیادہ کیش بر آمد ہوا اور چالیس ارب کی کرپشن اس کے علاوہ ہو، مگر احتساب کا قانون اس سے دو ارب میں سودا کر کے گھر بھیج دے اور پھر اعتراز کیا جا تا رہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس کیوںنہیں دیتی؟
مجھے خود بھی ٹیکس دینا پسند نہیں ہے کیونکہ مجھے سیاستدانوں کی دولت میں ”سالانہ بھتہ“ دے کر مزید اضافہ نہیں کرنا۔

ہاں! میں اپنی خوشی سے کسی پسند کی سیاسی جماعت کو فنڈز کے نام پر پیسے ضرور دے سکتا ہوں۔ مگر پھر کیا مجھے مخالفت کا نشانہ تو نہیں بنا یا جائے گا ؟ اگر میں کسی ایسی جماعت کو فنڈز دیتا ہوں ، جو اقتدار میں نہیں ہے تو کیا سماجی رابطے کی دنیا میں میرے نقطہ ِنظر کو انواع ِ اقسام کی گالیوں اور طعنوں سے مزیّن نہیں کیا جائے گا؟ ہمیں اپنی حکومت سے بہت سے سوال پوچھنے ہیں، مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے ضمیر میں بھی جھانکنا ہے۔ ویسے میں خوش ہوں نواز حکومت کے جوابات اور دلائل سے، جو ان کی طرف سے پانامہ لیکس کے معاملے میں موصول ہوئے ہیں۔ اس معاملے نے پوری قوم کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کے بارے میں ناصرف سوچے بلکہ اس پر آواز بھی بلند کرے۔ آنے والے دنوں میں پانامہ لیکس کے معاملے میں مزید بات کی خواہش رکھی جا سکتی ہے لیکن ابھی سچے دل سے امید کرتا ہوں کہ نیا سال ہمارے لیے امن اور خوشیا ں لیکر آئے۔ اور ہمیں بحثیت قوم ایک بہتر مقام نصیب ہو۔ اگر ہم اپنے میں بہتری لائیں گے تو ہماری حکومت میں بہتری آتی ہے تو ہمارے ملک میں بہتر ی آئے گی۔ ترقی دو طرفہ راستہ ہے۔ بغیر مقصد کھڑے رہنے سے صرف روکاوٹ ہو گی۔ اس لیے ہمیں چلتے رہنا ہے۔ آگے بڑھتے رہنا ہے۔

       اسد جاوید نیو ٹی وی نیٹ ورک کے انچارج آرکائیو اینڈ انجسٹ ہیں