قلم کو سیاہی درکار ہے!

مجھے یقین ہے کہ لفظ محنتانہ قارئین کیلئے معیوب یا نیا نہیں ہوگا۔ اگر آپ لفظ محنت سے واقف ہیں تو آپکو محنتانہ سے بھی واقفیت ہوگی۔ اس مضمون کو لکھنے کیلئے مجھے بہت سوچنا پڑا مگر پھر اسے اپنا استحقاق سمجھ کر لکھ رہا ہوں۔ آج ساری دنیا میں اچھے یا برے سے قطعہ نظر لکھنے والوں کی بھرمار ہے، اس بھرمار میں زبان کی کوئی قید نہیں ہے۔ تقریباً دنیا کی ہر زبان عام ہوتی جا رہی ہے ۔ ساری دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور رہی سہی کثر گوگل نے پوری کر رکھی ہے۔ لکھنے والوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسکی اہم ترین وجہ آن لائن شائع ہونے کی سہولت ہے ۔ سارا کا سارا فنونِ لطیفہ آن لائن دستیاب ہے، کوئی شعر ہو یا کوئی افسانہ یاپھر کوئی مضمون سب کچھ آن لائن میسر ہے۔

ایک زمانہ تھا جب کوئی لکھنے والا صرف اس وجہ سے نہیں لکھ پاتا تھا کہ لکھ کر اپنے پاس ہی رکھنا پڑے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی تحریر کی اشاعت مقصود ہوتی تھی تو بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی اور نوعیت کے مطابق وقت کا تعین کیا جاتا تھا کیونکہ اسوقت اشاعت صرف اور صرف صفحات کی محتاج تھی۔

وقت بدلنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بدلتا چلاگیا اور اب تو بلکل ہی بدل گیا ہے۔ صفحات کی صورت میں شائع ہونے والے اخبارات اور رسائل آج اس وقت سے کئی گنا زیادہ شائع ہو رہے ہیں، تکنیکی ترقی نے ایک ایسا متبادل راستہ پیش کردیا جس نے نئی نسل کو کتاب اور صفحات سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیایہ ترقی انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کی ایجاد تھی۔ جب وقت بہت ہوا کرتا تھا اور کرنے کیلئے کچھ کم کام ہوا کرتے تھے تب لکھنے اور پڑھنے والے دونوں ہی نایا ب ہوا کرتے تھے ۔ ایک اخبار تقریباً چار سے چھ گھروں کو سیراب کیا کرتا تھااور کبھی کبھی تو جس کے گھر آتا تھا اسے سب سے آخیر میں مطالعے کیلئے میسر ہوتا تھااور تو اور بازاروں میں ایک پڑھنے والا اور دس سننے والے ہوا کرتے تھے۔ اب سب کچھ آپکو آن لائن دستیاب ہے یعنی کمپیوٹر یا پھر آپکے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون پر آخبار تو کیا پوری کی پوری کتاب دستیاب ہے۔
جب رش بڑھ جاتا ہے تو اچھے اور برے میں تمیز کرنے میں دقت پیش آتی ہے اور یہاں تو رش میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف لکھنے والے اپنی زندگیا ں داؤ پر بھی لگا رہے ہیں تو دوسری طرف یہی لکھنے والے اپنے قلم کی بولیاں لگواتے پھر رہے ہیں۔ لکھنے والے اپنی اپنی سوچ معاشرے کو دیتے جا رہے ہیں اور معاشرہ اتنی ساری سوچوں کی اماجگاہ بن چکا ہے کہ ہمارے لئے کسی کو کسی بات پر آمادہ کرنا انتہائی مشکل ترین کام بن چکا ہے۔

کوئی فرقے کیلئے لکھ رہا ہے کوئی اپنی سیاسی جماعت کیلئے لکھ رہا ہے کوئی کسی کے مفاد کا پرچار کر رہا ہے تو کوئی کچھ لکھ رہا ہے۔ سب سے اہم اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب کا سب شائع ہو رہا ہے انگنت ویب سائٹس لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا مشن لئے اپنا اپنا کام کئے جا رہی ہیں اور لکھنے والوں کی شائع ہونے کی خواہش کو بروقت پورا کررہی ہیں۔


دورِ حاضر میں جہاں تک نظر آرہا ہے لکھنے والوں کی کثیر تعداد شوقیہ قلم درازیوں میں مصروف ہے اور انکے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی تحریریں منظرِ عام پر آرہی ہیں یا شائع ہورہی ہیں۔آج کل اخبارات میں بھی اداریہ کے صفحات پر ایک تحریر درج ہوتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ادارے کا لکھنے والے کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ، اس تحریر کی اشاعت میری نظر میں اخبار اور رسالوں میں لکھنے والوں کی تحریر بھی ایک آن لائن لکھنے والے کے برابر میں لاکر کھڑی کردی جاتی ہے یا رکھ دی جاتی ہے یعنی گدھے اور گھوڑے کا فرق یکسر نظر انداز کردیا جاتاہے (معذرت کے ساتھ)۔

آن لائن لکھنے والے جو انگریزی زبان کا استعمال کر رہے ہیں انکا بین الاقوامی سطح تک پہنچنا آسان دیکھائی دیتا ہے دوسری طرف اپنی قومی زبان اردو میں لکھنے والوں کی تحریریں بھی بین الاقوامی سطح تک پہنچ رہی ہیں کیوں کہ دنیا کے ہر نہیں تو ہر تیسرے یا چوتھے ملک میں اردو کی ترویج کیلئے کوئی نا کوئی ویب سائٹ کسی ادبی تنظیم کے تحت کام کر رہی ہے۔
بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا تجارتی (کمرشل) ہوگئی ہے اور ہر شے کے مول لگتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکاری نہیں ہونا چاہئے چاہے لکھنے والا کسی بھی زبان کا ہو وہ اسی معاشرے کا حصہ ہے۔  معاشرے میں معاشیات کی بڑی اہمیت ہے ۔تقریباً تمام کے تمام اشاعتی ادارے یا ایک طرح کہ میڈیا ہاؤسز مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔  اب جب کے ادارے مستحکم ہوچکے ہیں تو ان اداروں کی ناصرف اخلاقی بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ادارے سے وابسطہ لکھنے والوں کا کچھ نا کچھ حسبِ حال محنتانہ متعین کریں اور لکھنے والوں کو اور اچھا لکھنے پر اکسائیں۔

امید کرتا ہوں تمام اشاعتی ادارے جو آن لائن لکھتے ہیں۔ اس اقدام کی بدولت کسی حد تک صحافتی کرپشن میں کمی کے قوی امکانات ہیں۔ مختصر سا یہ مضمون دیکھنا ہے شائع ہوتا ہے یا نہیں مگر میری اپنی برادری (لکھنے والوں) سے درخواست ہے اپنے اپنے قلم کے محنتانے کیلئے یا پھر سیاہی کیلئے قلم اٹھائیے ۔ اگر اس رائے سے اختلاف ہے توبھی ممکن ہوسکے تو میری اصلاح کیجئے۔

بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے  اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مصنف کے بارے میں

شیخ خالد ذاہد

خالد ذاہد شعر کہنے کا شغف رکھتے ہیں،آرٹیکل اور بلاگ لکھتےہیں، انکا ماننا ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے