مریم نواز: سیاسی کیریئر کا شاندار آغاز؟

جس سوچ نے  سابق وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کی سیاست کو امر کر دیا، محترمہ بینظیر بھٹو کو وقت سے پہلے لیڈر بنا دیا، وہی سوچ اب محترمہ مریم نواز کو بھی وقت سے پہلے لیڈر اور ملک کی ممکنہ اگلی وزیر اعظم بنانے جا رہی ہے۔

آپ کسی شک میں نہ رہیں۔ مجھے تو حیرانگی ہے کہ نون لیگ اور وزیراعظم نواز شریف کی فیملی کیوں اتنی پریشان ہے۔ جس طریقے سے آپ کو حکومت کے آخری سال میں ہراساں کیا جا رہا ہے، یہ پاکستان کی سیاست میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔

ماضی میں اسطرح کی تذلیل کی کیمپین سے بڑے سیاسی کیریئر بن گئے۔ سیاسی ٹارگٹنگ جب ایک حد سے آگے نکل جائے تو اس کا نتیجہ برعکس نکلتا ہے۔ 1979 اور پہر 1986 کے بعد بینظیر بھٹو کی جس منظم طریقے سے کردار کشی کی گئی اور پھر تشہیر کی گئی، اس کے بعد وہ ایک سیاسی لیڈر بن کر ابھریں۔ جاوید ہاشمی کو جب پرویز مشرف دور میں جیل بھیجا گیا اور غدار کہا گیا، تو وہ جمہوریت کے علمبردار بن گئے۔ حتیٰ  کہ شیخ مجیب الرحمن، جو بھارت کے ساتھ خفیہ تعلقات بڑھا رہا تھا، اگرتالا سازش میں جیل گیا، غدار کہا گیا اور معاملہ جب طول اختیار کر گیا، تو مجیب کے ساتھ وہ لوگ بھی ہمدردی کرنے لگے جو کبھی پوچھتے بھی نہیں تھے۔

نون لیگ جتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پانامہ کیس پاکستانی جمہوریت اور سیاست کیلئے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کیس میں وزیر اعظم کے خاندان کی دولت پر جائز سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کیس کا یہاں تک پہنچنا عمران خان اور سراج الحق کی کاوشوں کے بغیر ناممکن تھا۔ لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ہم اس مرحلے میں  داخل ہو رہے ہیں جہاں شدید کردار کشی کا نتیجہ برعکس آتا دکھائی دے رہا ہے۔

مریم نواز کی پیشی نے محترمہ کو سیاسی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کا موقع دے دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مریم نواز ایک باصلاحیت نوجوان چہرہ ہیں اور ایسے چہرے دیکھنا ہماری دراز عمر سیاست میں میسر نہیں ہوتا۔ اور ہمیں نئے چہروں اور نئی سوچ کی ضرورت ہے، اور کاش تمام پاکستانیوں کو سیاست میں یکساں مواقع میسر ہوتے تا کہ محترمہ پر یہ الزام نہ لگتا کہ وہ اپنے والد محترم کا اثر ورسوخ اور اقتدار کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

لیکن تمام تر تنقید اور تشہیر کے باوجود، مریم نواز کا پہلا سنگین نوعیت کا پریس کانفرنس انکے سیاسی کیریئر کیلئے آئندہ مہینوں اور سالوں میں بہت فائدہ مند ثابت ہو گا۔

محترمہ نے بڑے اعتماد کے ساتھ اہم پریس کانفرنس کنڈکٹ کی۔ اپنی بات پوری کہی، مختصر رکھی، اپنا پیغام رائے عامہ تک پہنچایا، اورپھرصحافیوں کو بولنے نہیں دیا۔ یہ آخری بات بڑی اہم ہے۔ جو لوگ میڈیا بریفنگ کرتے ہیں یا جن کا میڈیا سے تعلق ہے، انکو پتہ ہے کہ ایسے موقعوں پر میڈیا کو کنٹرول میں رکھنا کتنا مشکل کام ہے، لیکن مریم نواز نے یہ کام بڑی آسانی کے ساتھ کر دکھایا۔ وہ بات اپنی جگہ کہ محترمہ نے اپنی جائیداد کے بارے میں ابھی جواب دینا ہے، اور یہ کہ انھوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات [ڈان لیکس کیس؛ نون لیگ میڈیا سیل کے ذریعے فوج کی کردار کشی، وغیرہ] کا تسلی بخش جواب کبھی نہیں دیا۔ اگر وہ سیاست میں آ رہی ہیں، تو انہیں کسی نہ کسی وقت ان الزامات کا تسلی بخش جواب دینا ہو گا۔ یہ سیاست کے تقاضے ہیں اور یہ پورے کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن سیاست میں تاثرات اور وقتی دکھاوا بڑی اہمیت رکھتا ہے اور رائے عامہ کی یاداشت کمزور ہوتی ہے۔

مریم نواز کی سوشل میڈیا پر وہ تصاویر جہاں وہ گھر سے نکلنے سے پہلے والدہ سے گلے مل رہی ہیں اور والدہ نے ہاتھ میں قرآن شریف تھاما ہوا ہے، اور پھر قوم کی بیٹی کا واویلا، اور اپوزیشن کا کرپشن اور پانامہ جیسے سنجیدہ کیسز میں ذاتیات پر اتر آنا اور سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ وزیراعظم، انکے بیٹے اور بیٹی کی کردار کشی کرنا [اسے انگریزی میں 'اوور کل' کہتے ہیں]،

یہ تمام باتیں اس سارے معاملے کو اس طرف لے چلی ہیں جہاں اب لہر پلٹ سکتی ہے اور مریم نواز کیساتھ ہمدردی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

کردار کشی کرنا بھی ایک فن ہے۔ ایک حد تک کام آتا ہے، لیکن حدیں پار ہوجائیں تو ہدف کو شہید بنا کر چھوڑتا ہے۔ سیاسی شہید۔

ابھی اس سوال کا جواب باقی ہے: کیا مخالفین نے مریم نواز کو سیاسی کیریئر کے آغاز کا بہترین موقع فراہم تو نہیں کردیا؟

احمد قریشی پاکستانی صحافی، محقق اور مصنف ہیں جو   نیو   ٹی وی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہیں۔
اور ایٹ کیو پروگرام کے اینکر ہیں۔ انکا پروگرام جمعہ، ہفتہ، اتوار شام آٹھ بجے دیکھا جا سکتا ہے۔
رابطہ کیلئے 
ahmed.quraishi@neonetwork.pk

@office_AQpk

FB.com/AhmedQuraishiOfficial

احمد قریشی کے یہ بلاگ بھی پڑھیں:

کس نے پاکستان کو ریاض اجلاس میں نظر انداز کیا؟

مشال خان: ایک ضروری وقفہ

متنازعہ نوٹیفیکیشن کا نقصان

وزیر اعظم صاحب کے فدائین