خدمت خلق کا دیا۔۔ایسا ہے ہمارا ایدھی

خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی کو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بھی انسانیت کی خدمت کے نام پر پہچانا جاتا تھا۔ ایدھی ایک شخصیت کا نام نہیں تھا بلکہ ایدھی ادارے کا نام تھا جو دکھی انسانیت کو جوڑنے والا، انسانی دوستی اورخدمت خلق کا بہترین نمونہ تھا۔اگر میں یہ کہوں تو بجا نہ ہو گا کہ پاکستان میں فلاحی کام کرنے والے جتنے بھی ادرے ہیں سب کے لیے انتہائی مددگار اور جذبوں کو خلاوت بخشنے والی ہستی جناب ایدھی صاحب نے فلاحی کاموں کی بنیاد رکھی۔

فلاحی کاموں کے لیے کسی روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایک جذبہ ہونا چاہیے ایسا جذبہ اور جوش جو ابدالستار ایدھی صاحب میں تھا۔

اسی جذبے کے تحت انھوں نے بہت کچھ کر دکھایا۔ ساری دنیا آج ایدھی کو خدمت خلق سے جانتی ہے۔ ایدھی وہ ہے جو ایسی تعفن ذدہ اور بدبودار لاشوں کو اٹھاتا تھا جو گٹروں اور نالوں سے ملتی تھیں جنھیں انکا بیٹا ان کا بھائی ہاتھ لگانے سے کتراتا تھا ایدھی اسے اپنے ہاتھوں سے غسل دیتا تھا۔ ایدھی وہ ہے جنھیں کئی لوگوں نے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر غریب بچوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ، خود ایمبولینس چلاتے ہوئے دیکھا ،میتوں کو نہلاتے،زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتے ہوئے بھی دیکھا ۔ان کے نزدیک کوئی عذر اور مجبوری نہیں ہوتی تھی ، وہ تعفن ذدہ لاشوں کو اٹھاتے تھے تو کسی سانحے اور حادثے کے بعد کیچڑ ، ملبے اور دھوئیں میں بھی بلا کسی کراہت گھس جاےا کرتے تھے یہی ان کی عظمت اور بڑائی تھی۔
ایدھی صاحب اکثر ے ایک واقعہ سناتے تھے کہ ایک رات میں کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں ڈاکوﺅں نے مجھے روک لیا ۔ جب ڈاکو سب کچھ لے بیٹھے اور مجھے جانے کا کہا جب میں جانے لگا تو ایک ڈاکو نے مجھے پہچان لیا۔ وہ فوراً اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا  ان کا سب کچھ واپس کر دو ۔۔۔۔۔۔! ساتھیوں نے تجسس سے پوچھا ! کیوں کیاہوا؟ ۔۔۔۔۔ ڈاکو نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بد بختو! جب پولیس مقابلے میں مارے جاﺅ گے جب تمہارے اپنے قریبی رشتہ دار بھی پہچاننے اور لاشیں لینے سے انکار کر دیں گے ، جب کوئی چھونے کو تیار نہیں ہو گا ۔ تب یہی آدمی انسانیت کی خاطر آگے بڑھے گا اور تمہاری تدفین وغیرہ کرے گا ۔۔۔۔۔واہ! یہ ہیں عبدالستار ایدھی ۔۔۔
عبدالستار ایدھی گزشتہ برس  آج ہی کے دن کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ان کے انتقال کی خبر پر پاکستان سمیت پوری دنیا سوگوار ہو گئی تھی ان کے گردے فیل ہو گئے تھے اور وہ شوگر کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔8جولائی 2016 رات تقریباً گےارہ بجے انسانیت کی خدمت کرنے والا دیا اپنے پیچھے ایک عظیم خدمت کا درس دے کر ہمیشہ کے لیے گل ہو گے اور دنیا ایک عاجز اور مخلص ہیرو سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئی ۔ وہ 10 سال سے ایس آئی یو ٹی سے علاج کرا رہے تھے۔
عبدالستار ایدھی 6دہائیوں سے آخری ایام تک انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے ۔ ان کا قائم کردہ ادارہ ایدھی فاﺅ نڈیشن ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے اس کا دائراہ کار پاکستان میں سب سے بڑا ہے چاہے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہویا سب سے چھوٹے دیہی علاقے ہوں یا  قصبے ہوں ایدھی فاﺅنڈیشن کی جھلک ہمیں ہر جگہ دکھائی دے گی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایدھی فاﺅنڈیشن ملک کے کونے کونے تک وسیع ہوتی جا رہی ہے۔اس وقت ایدھی فاﺅنڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ان کی بیوی محترمہ بلقیس بیگم اس وقت ایدھی فاﺅنڈیشن کی سربراہ ہیں جبکہ  بیٹا فیصل ایدھی انکی معاونت کرتا ہے۔ ایدھی اور انکی اہلیہ کو 1986میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون میگسیے ایوارڈز سے نوازا گیا۔

سراج احمد تنولی  کالم نگار،صحافی اور بلاگر ہیں