اسکولوں میں کو لڈ ڈرنکس کا داخلہ منع ہے

ننھے ستارے،چاند کے ٹکڑے ،والدین کی جان اور مستقبل کے معمار ۔بات ہو رہی ہے پیارے پیارے بچوں کی ۔چھوٹے چھوٹے بچے ،بڑے بڑے اور بھاری بستوں کے ساتھ اسکول جاتے سب ہی کو پیارے لگتے ہیں ۔ان کلیوں سے بھی نازک پھولوں کی حفاظت،خیال اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ انھی ننھے مُنے پو دوں کو تناور درختوں میں تبدیل ہو نا ہےاور ان کی چھاؤں اور پھل  سے سب نے ہی مستفید ہو نا ہے ۔لیکن اگر کسی پو دے کی نشو نُما دُرست نہ ہو ،وقت پر دھوپ اور پانی  نہ ملے تو  یہ ہی پو دے یا تو مُر جھا جا تے ہیں اور اگر کسی حکمت سے پروان چڑھ بھی جا ئیں تو بھی کسی کو فا ئدہ پُہنچانے سے قاصر صرف دھرتی کا بوجھ بن جاتے ہیں ۔

جہاں بچوں کی تعلیم و تربیت ضروری ہے وہیں ان کی صحت سب سے اہم اور بڑھ کر ہے۔مشہور مقولہ ہے کہ صحتمند  جسم میں صحت مند دماغ ہو تا ہے ۔مزید برآں یہ کہ بچوں کا صحت مند ہو نا اس لیے بھی بہت ضروری ہے کہ وہ سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہو تے ہیں ۔یہ وقت بچوں کا نہایت اہم ہو تا ہے جسمانی یا ذہنی کمزوری اُنھیں زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے بُہت پیچھے کر دیتی ہے ۔

اُن کی صحت کا خیال جہاں والدین کی ذمہ داری ہے وہیں ان بچوں سے جُڑے ہر اُس فرد کی بھی ہے جس کا ان سے کسی بھی صورت رابطہ ہو۔اس ضمن میں سب سے اہم مُدرسہ،مکتب ،اسکول اور اساتذہ ہیں ۔ بچے اپنے دن کا زیادہ تر حصہ ان درس گاہوں میں گزارتے ہیں ۔تعلیم کی اہمیت سے اب مُعاشعرہ آگاہ ہو تا جا رہا ہےاور خوش آئند بات یہ ہے کہ بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے پر کمر بستہ بھی نظر آتے ہیں ۔جب بچہ ان درس گا ہوں میں دن کا زیادہ حصہ گزارتا ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ لنچ بھی کرے گا ۔چھوٹے بچے گھر سے کھانا لاتے ہیں جبکہ بڑے بچے اسکولوں میں موجود کینٹین کا رُخ کرتے ہیں ۔جہاں سے وہ مختلف قسم کی اشیاء کی خرید کرتے ہیں ۔

آج کے اس جدید دور میں جیب خرچ کے نام پر "پاکٹ منی " ہر بچے کا شرعی و قانونی حق سمجھ لیا گیا ہے ۔گھر سے بچہ لنچ لے کر آئے یا نہیں پاکٹ منی لازمی لاتا ہے ۔ان پیسوں سے وہ کچھ بھی خریدنے میں آزاد ہو تا ہے ۔ میڈیا پر آنے والے دلچسپ اشتہاروں میں کمپنیاں کھانے کی چیزوں کی تشہیر کرتی ہیں جو بچے بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اور پھر انھیں خریدتے ہیں ۔کو ئی نہیں جانتا کہ ان کی غذائی افادیت کیا ہو تی ہے اور ان کے اثرات صحت پر مُضر ہیں یا نہیں۔یا درہے کہ انسان جو کچھ کھاتا پیتا ہے اُس کا اثر اُس کی صحت کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج ،بول چا ل ،رویے پر بھی ہوتا ہے ۔اسی لیے دینِ اسلام میں کھانے کے حوالے سے کئی احادیث بھی مو جو د ہے.

مزید برآں یہ کہ با قاعدہ دین میں واضح طور پر حلا ل اور حرام غذا کا تفصیلی بیان ہے تا کہ انسان بالخصوص مسلمان قوم حلال غذا کھائے اور مُعاشرے میں اُس کا اثر نظر آئے۔ جن کھانے کی چیزوں سے آج سے 1400 سال پہلے منع کیا گیا

آج میڈیکل سائنس  یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ اشیاء نہ صرف صحت کے لیے خطرناک ہیں بلکہ ایسی چیزیں کھانے والے افراد مختلف جرائم اور غضیلے مزاج کے حامل ہو جا تے ہیں ۔

  آج کے اس جدید اور مصروف دور میں دُنیا بھر میں غذا اور اُس کی افادیت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا تی ۔مغربی اقوام نے خود کو اتنا مصروف کرلیا ہے کہ بس پیٹ بھرنے کے لیے "ریڈی میڈ" کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ مشرقی اقوام کھانے پر اتنی تو جہ دیتے ہیں کہ جیسے زندہ ہی کھانے کے لیے ہیں لیکن ذائقے کے چکر میں نقصان کی پرواہ سے لاپرواہ۔ہو ٹلنگ کا بڑھتا ہوا رُجحان سیر پر سوا سیر کے مُترادف ہے ۔کھانے کے بعد کو لڈ ڈرنک پینا ایک عادت ،کلچر اور ضرورت بنتا چلا جا رہا ہے جو بہت ہی خطرناک ہے ۔

والدین خود بھی اُنھیں اس کے استعمال سے منع نہیں کرتے کیونکہ نہ صرف وہ خود استعمال کرتے ہیں بلکہ گھر میں "اسٹاک " کی صورت میں ہر وقت مو جو د ہو تی ہے اور بچوں کی پہنچ میں بھی ۔گھر کے ساتھ ساتھ اب اسکولوں ،کالجوں اور یو نیورسٹیوں کی کینٹین میں بھی ہر طرف آسانی سے دستیاب ہے ۔بچوں کے لیے یہ کسی زہرِ قاتل سے کم نہیں ۔پروان چڑھتے ہو ئے بچے جب یہ پیتے ہیں تو نہ صرف مختلف بیماریوں کا شکار ہو تے ہیں بلکہ ان کی نشو نُما بھی متاثر ہو تی ہے ۔ یہ مشرو بات ہڈیوں کو کمزور کرتے ہیں ۔بچوں کو ان سے روکنا اور اس کے مضر اثرات سے آگا ہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اس ضمن میں "پنجاب فو ڈاتھارٹی"لائقِ تحسین ہے کہ انہوں نہ صرف اس معاملے کی سنگینی کا ادراک کیا بلکہ اپنے آئندہ اجلاس میں اس تجویز کہ پنجاب کے تمام اسکولوں میں کو لڈڈرنک پر پابندی لگائی جائے کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اس ضمن میں حکومت کو چاہیے کہ ایک ٹیم بھی تیار کرے جو اسکولوں میں جا کر بچوں کو ،کولڈڈرنک کے مُضر اثرات سے خبر دار کرے تا کہ ایک صحت مند مُعاشرہ تشکیل پا سکے اور پاکستان کامستقبل مضبو ط کاندھوں پر  منتقل ہو ۔لہذا اسکولوں کی کینٹین اور صدر دروازے پر یہ اشتہار لگا دینا چا ہیے " اسکولوں میں کو لڈ ڈرنک کا داخلہ منع ہے"۔

سہیل رضا تبسم کراچی کی نجی یونیورسٹی میں لکچرار ہیں،اردو میں کالم اور بلاگ بھی لکھتے ہیں   

انکا ای میل sohail_tabbassum@hotmail.com