کشمیر کیلئے ریاستی اور سفارتی جہاد کی ضرورت

حریت رہنما محمد یاسین ملک نے سرینگر سینٹرل جیل سے اپنے ایک پیغام میں کہاکہ جموں وکشمیر پر ناجائز فوجی تسلط اور تنازعہ کشمیر کی حقیقت سے بھارت کا مسلسل انکار ، کشمیر میں انسانی جانوں کے اتلاف اور امن وامان کی تباہی کی بنیادی وجوہات ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کشمیری نوجوانوں کے پاس جانیں نچھاور کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔مقبوضہ جموں و کشمیر صرف سال 2016کے اعداد وشمار کو سامنے رکھا جائے تو برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی نئے دور میں داخل ہوئی ۔انڈین فورسز کی جارحانہ کارروائیوں میں بی بی سی کے مطابق 110 سے زائد افرادشہید ہوئے،چودہ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حکومت نے مزید فورسز تعینات کی اور کرفیو لگائی اور موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی۔

بھارتی فوج کی جانب سے چھروں والی گولیوں کے استعمال سے 500 سے زائد کشمیری نوجوانوں کی آنکھوں میں گولیاں لگیں ہیں۔ جن میں سے 100 افراد اپنی بینائی سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو کسی نہ کسی ذریعے سے عوام کے سامنے آتے ہیں۔ اگر ہم کولیشن برائے انسانی حقوق کی2015کی رپورٹ ملاحظہ کریں تو اس میں بڑی وضاحت کے ساتھ ان اعدادوشمار کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کے دوردراز علاقوں میں برپا ہونیوالی ظلم کی داستانیں سامنے ہی نہیں آتی ۔ گویا ہزاروں کی تعداد میں جام شہادت نوش کرنیوالے اور قربانیاں دینے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کے گمنام صفحات میں رقم ہورہی ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے بالعموم جبکہ سال2017کے اوائل سے اب تک کے عرصے میں دو دفعہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی یہ مان چکی ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہے بلکہ بات چیت سے ہی حل نکالا جاسکتا ہے۔کشمیریوں کی انہی قربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقوام متحدہ نے نصف صدی سے جاری خاموشی توڑتے ہوئے کشمیر پر بات کی۔ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں حالیہ مہینوں میں تین دفعہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بڑھتے ہوئے مظالم پر اظہار تشویش کیا گیا ہے۔

آج جدوجہد آزادی کو جو عروج ملا ہے اس میں لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا لہو شامل ہے۔پاکستان پر کشمیریوں کی یہ جدوجہد قرض اسلئے بھی ہے کہ ہر شہید کی زبان پر نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ہوتا ہے اور ہر شہید کے لواحقین اسے پاکستانی پرچم میں دفنانے میں ہی اعزاز سمجھتے ہیں۔ کشمیر کی بات کی جائے تو جہاد کشمیر کے نعرے پاکستان کے طول وعرض میں سننے کو ملتے ہیں، غیرریاستی عناصر کی جانب سے جہاد یقیناًایک مشکل عمل ہے لیکن اس کے نتائج تقریباً اس کے شروع ہونے کے68سال بعد بھی نہیں ملے اور اگلے68سال میں بھی نہیں ملیں گے۔ مسئلہ کشمیر کا حل ریاست کر سکتی ہے، لہذا اس کے لئے ریاستی اور سفارتی جہاد کی ضرورت ہے۔ بھارت ازخود کبھی مذاکرات کی ٹیبل پر نہیںآئے گا۔ پاکستان کو اسے مذاکرات پر مجبور کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اپنے عالمی دوستوں کو ساتھ ملانا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کے حل کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ تدبیریں مخلوق کرتی ہے تعبیریں خالق کے ذمے ہیں۔ مخلوق کو تدبیریں حکمت اور تدبر کیساتھ زمانے کی روش کو دیکھتے ہوئے بدلتے رہنا چاہیے اور خالق سے امید رکھنی چاہیے کہ ہماری اس کی رضا کیلئے کی گئی تدبیریں رنگ لائیں گی۔کہتے ہیں مومن ایک فیصلہ غلط کرے تو دوسری دفعہ اسے دہراتا نہیں ، میں نہیں کہتا کہ پرانے فیصلہ غلط تھے، مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ وہ فیصلے کشمیر کو آزادی کی منزل نہ دے سکے،لہذا وقت ہے کہ نئے فیصلے کیے جائیں اور پاک فوج کی حالیہ کاوشیں بھی کچھ ایسے ہی اشارے دے رہی ہیں۔ دنیا کویہ بھی باور کرانا ہے کہ یہ مسئلہ پاکستان کی انا کا نہیں بلکہ حق خودارادیت کا ہے۔

دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مائیں اپنے بیٹوں کو بے وجہ قربان نہیں کرتیں، موت کو بغیر کسی مقصد کے نوجوان سینے سے نہیں لگاتے اور موت کے بعد سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جانے کی خواہش رکھنے والے ہزاروں کشمیری یہی پیغام دے رہے ہیں کہ جس جدوجہد آزادی کو تم تقریباً ایک صدی میں نہیں دبا سکے وہ اب کیسے دب سکتی ہے؟ بارود سینے تو چھلنی ضرور کرتا ہے مگر جذبے نہیں مرتے۔ جذبے کل بھی زندہ تھے۔ آج بھی زندہ وجوان ہیں اور ہر گزرتے دن عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے یہی پیغام دے رہے ہیں کہ ’’جان دینے کے سواکوئی راستہ نہیں‘‘

مصنف کے بارے میں

رضی طاہر

رضی طاہر سوشل ایکٹیوسٹ اور بلاگر ہیں