گریٹ گیم اور پاکستان کا کردار

آج کا روس جو کبھی سوویت یونین ہوا کرتا تھا 1979 میں اس نے اپنے سپر پاور ہونے کے زعم میں افغانستان پر حملہ کر دیا اور گرم پانیوں تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈنا چاہا بھارت پر پاکستان کی دشمنی میں سب سے آگے رہنے والی اندرا گاندھی حکمران تھی اس وقت کی گریٹ گیم پاکستان کو سینڈ وچ بنا کر کچل دینے کی تھی امریکہ بھی پاکستان کی مدد کو جھجک رہا تھا لیکن بقول دانائے راز 

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
پاکستان نے دو سال تک ریڈ آرمی کو گوریلا جنگ سے مصیبت ڈالے رکھی افغانوں کو تربیت دی اور آخر ریڈ آرمی کو اپنی بیرکوں میں واپس لوٹنا پڑا. اس جنگ کے اثرات آج تک پاکستان سماجی سیاسی اقتصادی اور نفسیاتی لحاظ سے بھگت رہا ہے. آج کل گریٹ گیم پھر زوروں پر ہے پاکستان کی اسٹریجک اہمیت بہت زیادہ ہے روس کو پیار و محبت سے گرم پانیوں تک رسائی مل رہی ہے امریکہ بہادر حسب روایت دھوکہ دیتے ہوئے بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے ایسے میں پاکستان کو اپنے پتے بڑی احتیاط سے کھیلنے کی ضرورت ہے اور اس میں غیرت اور حمیت کا بہت عمل دخل ہے۔
ابن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے اس نے تقریبا سات سو برس پہلے قوموں کے عروج و زوال کے حوالے سے اپنا مشہور زمانہ نظریہ عصبیت پیش کیا جس کو آج بھی ایک ماڈل کے طور پر لیا جاتا ہے اس نے قومی غیرت اور حمیت پر بڑا زور دیا ہے اور بڑا واضح کہا ہے کہ جس قوم سے غیرت اور حمیت رخصت ہو جاتی ہے اس کو زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ دانائے راز حضرت علامہ اقبال بھی اپنی نظم غلام قادر روہیلہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں،
غلام قادر روہیلہ برصغیر کی تاریخ میں ایک انتہائی سفاک اور سنگدل شخص گزرا ہے جس نے مغل شہنشاہ شاہ عالم کی آنکھیں نکلوا ڈالیں اور مغل شہنشاہیت کے جبروت اور سطوت کی نشانی لال قلعہ میں تیمور اور بابر کی بیٹیوں کو ناچنے کا حکم دے دیا۔
اقبالؒ نے اقوام کے عروج و زوال کے اہم اسباب میں سے ایک اہم سبب پر روشنی ڈالی ہے
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
علامہ اقبالؒ نے برصغیر کی تاریخ کے اہم دردناک واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے‘ جب غلام قادر روہیلہ نے لال قلعہ کے دیوان خاص میں جہاں کبھی شہاب الدین محمد شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر تخت طاؤس پر بیٹھ کر ہندوستان کی تقدیر کے فیصلے کرتے تھے‘ اسی دیوان خاص میں اس نے مغل شہزادیوں کو ناچنے کا حکم دے دیا اور خود خنجر پاس رکھ کر سوتا بنا لیکن مغل شہزادیاں ناچتی رہیں۔ اس وقت غلام قادر روہیلہ نے یہ تاریخی جملہ بولا:
”میرا خیال تھا کہ تیمور کی بیٹیوں میں کچھ غیرت و حمیت باقی رہ گئی ہو گی اور وہ مجھے سوتا سمجھ کر میرے خنجر سے قتل کرنے کی کوشش کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب مغل شہنشاہیت کو مٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔“
خیر یہ عبرت ہے اُن اقوام کے لئے جو غیرت و حمیت کھو دیتی ہیں۔ شاطر انگریز نے 1857ء کی ناکام جنگ آزادی سے ایک سبق اور بھی سیکھا کہ آخر دو مختلف قومیں (ہندو اور مسلمان) انگریزوں کے خلاف اکٹھی کیسے ہو گئیں اور انہوں نے مغل شہنشاہیت کے جھنڈے تلے آزادی کی جنگ کیسے لڑی۔ سو نئی پالیسی آ گئی یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ابھی بھی بددیانت انگریز کی اس پالیسی کے اثرات برصغیر کے عوام بھگت رہے ہیں۔ مغل شہنشاہوں نے اپنی رواداری کی پالیسی سے جو زبردست اثرات اس خطے پر مرتب کئے وہ شاطر انگریز نے زبان‘ ثقافت‘ نصاب اور تاریخ کی تبدیلی سے ختم کر دیئے۔ سامراج کے زہریلے نصاب نے ہمارے درمیان فاصلے اور دوریاں پیدا کر دیں۔
سرسید احمد خاں کی زبردست حکمت عملی نے مسلمانوں کو سنبھالا اور ایسے دانشوروں کا گروہ وجود میں آیا جنہوں نے پاکستان کی بنیاد ڈالی۔ آخرکار 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آگیا۔

گزشتہ دنوں ہمارے مشیر خارجہ سرتاج عزیر کو دورہ بھارت کے دورانڈپلومیسی کی زبان میں ایک معزز اور خودمختار قوم کے نمائندے کا بھی اسٹیٹس نہیں دیا گیا پریس کانفرنس سے روک کر ویانا کنونشن کیُ دھجیاں اڑا دی گئیں افغانستان کے کٹھ پتلی صدر اشرف غنی نےبڑے دھڑلے سے پاکستان پر دھشت گردی کاُ الزام لگایا اور ہم صرف مسکرا کر رہ گئے،مودی نے بھی نام لئے بغیر پاکستان کو دہشت گردی میں ملوث قرار دیا اور ہم حسب روائت ڈپلومیسی کا طبلہ بجاتے رہے اگر انسان میں غیرت اور حمیت ہو تو چانٹے کا جواب چانٹے سے دینا ضروری ہوتا ہے یا ہم نے اب گاندھی کے فلسفے پر عمل کو ڈپلومیسی کا نام دے دیا ہے کہ اپنا دوسرا گال بھی آگے کر دیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی قوم تو ہم ہیں اور ہمیں ہی دھشت گرد کہا جا رہا ہے بھارت خود مسلہ کشمیر کو اقوم متحدہ میں لے کر گیا تھا اور ہم ہاتھ جوڑے مزاکرات کی درخواست کر رہے ہیں بھارت کا رویہ قصور وار ہو کر بھی جارہانہ ہے اور ہم بے قصور ہو کر بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں بھارت اس وقت خطے میں ہونے والی بین الاقوامی گریٹ گیم کا حصہ بنا ہوا ہے وہ کشمیر اور پانی کے معاملے میں کبھی مزاکرات نہیں کرے گا بلکہ پاکستان کو دباؤ میں رکھنا ہی گریٹ گیم کاُحصہ ہے
ہم وہ قوم ہیں جس نے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا اور ابھی بھی کہا جا رہا ہے کہ ہم دہشت گرد ہیں کیا یہ لطیفہ نہیں ہے کہ اس صدی کا سب سے بڑا دہشت گرد مودی ہمیں دہشت گرد کہہ رہا ہے

جبکہ ہمارے سیکڑوں شہری اور جوان شہید ہو جلے ہیں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکاہے ہمیں اپنی اداؤں پر اب خود سے غور کرنا ہو گا کیونکہ اللہ آسمانوں سے فرشتے نہیں بھیجا کرتا قوموں میں اگر غیرت اور حمیت ہو تو وہ اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرتی ہیں .

      صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں