روس میں سگریٹ نوشی غیر قانونی قرار دینے پر غور

ماسکو: روس کی وزارت صحت 2014 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے تمام افراد کو سگریٹ کی فروخت بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔یہ تمباکو کے خلاف ملک کے سیاسی رہنماوں کے سخت اقدامات کا حصہ ہے۔اس نسل کے لوگوں پر بالغ ہونے کے بعد بھی پابندی جاری رہے گی۔ابھی اس بابت صرف غور کیا جا رہا ہے لیکن اگر اس پر عمل در آمد ہو گیا تو روس میں بالآخر سگریٹ نوشی غیر قانونی ہو جائے گی۔

روسی میڈیا کے مطابق اس بارے میں ایک سرکاری دستاویز دیکھی ہے جس میں 2017 سے 2022 کے درمیان اور اس کے بعد بھی تمباکو کے خلاف حکومتی حکمت عملی کا ذکر ہے۔اس کے مطابق روسی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسے حکومتی سطح پر وسیع پیمانے پر جاری کیا جا رہا ہے۔ملک صحت کمیٹی کے ایک رکن نیکولائی گراسیمنکوف نے کہا کہ یہ ہدف اصولی طور پر بالکل صحیح ہے۔یاد رہے کہ روس میں سگریٹ نوشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں تقریبا 40 فی صد آبادی سگریٹ پیتی ہے۔