دنیا بھر میں 124 ملین بچے بیماری کی حد تک موٹاپے کا شکار ہیں، برطانوی ماہرین

لندن: برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ 40 سال میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح میں 10 گنا اضافہ ہو گیا ہے اور دنیا بھر میں لڑکوں اور لڑکیوں سمیت 124 ملین بچے بیماری کی حد تک موٹاپے کا شکار ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے نے برطانوی طبّی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں 200 سے زائد ممالک میں موٹاپے کے شکار بچوں پر تحقیق کی گئی۔تحقیق کی رْو سے موٹاپے کا شکار یہ بچے ایک قوی احتمال کے مطابق موٹاپے کے شکار بالغ افراد بنیں گے اور آنے والے ادوار میں انہیں سنجیدہ سطح پر صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عالمی آبیسٹی فیڈریشن کے مطابق سال 2025ء سے موٹاپے سے متعلق صحت کے مسائل کے لئے1.2 ٹریلین خرچ کرنے کی ضرورت پڑے گی۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ مجید عزتی نے کہا ہے کہ اگرچہ بلند شرح آمدنی والی یورپی ممالک کے بچوں میں موٹاپے کی شرح میں کمی ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کے دیگر علاقوں میں موٹاپے کی شرح تشویش ناک ہے۔

عالمی ادارہ صحت سے ڈاکٹر فیونا بْل نے بھی اپنے بیان میں بھاری کیلوریز والی غذاوں سے بچنے، خوراک سے متعلق سخت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور جسمانی حرکت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مصنف کے بارے میں