بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمان گلوکار کو قتل کردیا

نئی دہلی :بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں ہندوں انتہا پسندو ں نے مسلمان لوک گلوکار کو قتل کر دیا۔ جس کے بعد علا قے میں کشیدگی پھیل گئی ہے جبکہ ہندوں انتہا پسندو ںکے حملو ں کے ڈر سے کم از کم دو سو مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کرچلے گئے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب ڈانٹال نامی گاؤں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب ایک پنڈت نے لوک گلوکار احمد خان پر یہ الزام عائد کیا کہ اس نے ایک ہندو دیوی کی شان میں پڑھی جانے والی ایک نظم میں غلطیاں کی تھیں۔


پینتالیس سالہ احمد خان کا تعلق راجستھان کے لانگا منگن یار قبیلے سے تھا۔ یہ قبیلہ نسل در نسل ہندوؤں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر مندروں میں مختلف بھجن گانے کا کام کرتا آیا ہے۔ ایک مقامی پنڈت نے احمد خان کو بھجن میں تبدیلی کرنے کے لیے کہا، جس کے بعد دو طرفہ بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔


پولیس کے مطابق اس کے بعد پنڈت رامیش سْتھر اور اس کے دوستوں نے احمد کے آلات موسیقی توڑ دیے اور اسے قتل بھی کر دیا تھا۔ پولیس کے سینئر تفتیشی افسر گورو یادیو کا کہنا تھا کہ قتل کی خبر پھیلنے کے بعد انہی ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین لڑائی کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو کئی نسلوں سے یہاں مل جل کر رہ رہے تھے۔