جماعت اسلامی کو بھی ایک موقع دیں

 محترم سلیم صافی صاحب کا ایک کالم ” جماعت اسلامی کیوں نہیں“ کے عنوان سے پڑھا تھا۔سلیم  صافی صاحب نے اپنے کالم میں ایک نہایت اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب ایک سیاسی جماعت جو کہ اپنی خدمت خلق، کردار اور کار کردگی کے حوالے سے بہت اچھی شناخت رکھتی ہے تو پھر ہمارا میڈیا اور عوام کو بھی اسے کم از کم ایک موقع دے کر آزمانا ضرور چاہیے۔ زیر نظر تحریر میں بھی سراج الحق اور ان کی جماعت کے حوالے سے کچھ منفرد نکات پیش کیے جا رہے ہیں جن کو عوام اور میڈیا کو کھلے دل اور کشادہ ذہن سے ضرور اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔

1. پاکستان کی موجودہ سیاسی جماعتوں میں سراج الحق کی جماعت وہ واحد جماعت ہے جو نہ صرف اپنی جماعت کے اندر انٹرا پارٹی الیکشنز نہ صرف باقاعدگی سے کرواتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں پارٹی کے اہم عہدوں پر تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ صوبائی صدر تین سال کےلیے اور ضلعی صدر دو سال کےلیے منتخب ہوتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ دو دفعہ منتخب ہو سکتا ہے.

2. سراج الحق کی پارٹی وہ واحد پارٹی ہے جس میں پارٹی صدر کے لیے بھی ”بلامقابلہ“ صدر منتخب ہونے کا غیر جمہوری کلچر نہیں ہے۔

3. سراج الحق کی جماعت باقی سیاسی جماعتوں سے اس لحاظ سے بِھی منفرد ہے کہ ان کی جماعت میں پارٹی صدر کے مواخذے، احتساب اور باز پرس کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔

4. سراج الحق کی پارٹی میں ان کے خاندان کو صرف صدر صاحب کے خاندان ہونے کے ناطے پارٹی پروٹوکول، مراعات یا امتیازی مقام حاصل نہیں ہے۔

5. سراج الحق صاحب کی پارٹی میں پبلک فیڈ بیک کو سننے اور مفید آراء کو پارٹی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے شامل کرنے مؤثر کا نظام موجود ہے۔

6. پاکستان کے موجودہ سیاسی لیڈران میں سراج الحق وہ واحد لیڈر ہیں جو بارہا خود اپنے آپ کو عوام کے سامنے اور اسمبلی میں ہر قسم کے کھلے احتساب اور اپنی ذات پر کسی بھی قسم کے سوال کے لیے رضاکارانہ طور پہ پیش کر چکے ہیں۔

7. سراج صاحب خود، ان کی پارٹی کے دیگر لیڈران اور ان کے خاندان مجموعی طور پر ملک عزیز میں ہی سکونت اور معاش رکھتے ہیں۔

8. سراج الحق صاحب کی پارٹی میں کرپٹ سیاست دانوں اور مفاد پرست عناصر کا داخلہ مکمل بند ہے۔

9. پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں سراج الحق کی پارٹی وہ واحد پارٹی ہے جو مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا میں سب سے زیادہ آواز بلند کر رہی ہے۔

10. سراج الحق کی پارٹی سیاست کو عبادت سمجھ کے کرتی ہے، اسی وجہ سے آج تک ان کی پارٹی پر کبھی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔

11. سراج الحق کی پارٹی میں کوئی بھی عام کارکن اپنی صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر پارٹی صدر بن سکتا ہے، خود سراج الحق کے سیاسی سفر کا آغاز ایک کارکن کی حیثیت سے ہی ہوا تھا۔

12. سراج الحق کی پارٹی کے اسمبلی ممبران، اسمبلی میں اپنی حاضری، اسمبلی کارروائی میں شمولیت، عوامی مسائل کےلیے سب سے زیادہ آواز اٹھانے اور اپنی پارلیمانی کارکردگی کی بنیاد پر ہمیشہ اول آتے ہیں۔

13. سراج الحق کی پارٹی وہ واحد پارٹی ہے کہ جس کے کسی ممبر نے نہ کوئی قرضہ معاف کروایا اور نہ ہی کوئی کوٹہ یا لائسنس حاصل کیا۔

14. سراج الحق وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جن کو نہ کبھی نیب، نہ ہی سپریم کورٹ اور نہ ہی کسی اور ادارے نے ان پر کسی مالی، اخلاقی یا فوجداری الزام کے تحت نوٹس بھیجا۔ سراج الحق کی پارٹی پورے پاکستان میں فلاحی کام کروانے کے باوجود انہیں الیکشن کیمپین میں کیش نہیں کرواتی۔

16. یہ وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو مکمل میڈیا بائیکاٹ اور الیکشن نتائج کے باجود پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار اور کام خاموشی سے مسلسل کیے چلے جارہی ہے۔

17. سراج الحق کی پارٹی میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور ان سے وابستہ افراد دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

18. سراج الحق کی پارٹی مذہب کو رحمت اور راہ نجات سمجھتی ہے۔

یہ چند نکات ان بہت سے نکات میں سے ایک ہیں جو سراج الحق کی پارٹی کو دیگر سیاسی جماعتوں سے ممتاز بناتے ہیں اور وہیں پاکستانی عوام اور میڈیا کویہ سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں ایک بد عنوانی سے پاک جماعت ، جس کی کار کردگی بھی بہتر ہے کو کم از کم ایک بار ضرور آمانا چاہیے۔nلہٰذا سراج الحق کو موقع دیجیے!

 امیر حمزہ اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ انہوں نے  پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے