پتھر روتے ہیں نئے افسانوں کی دنیا۔۔۔

نعیم یاد ایک بہترین افسانہ نگار اور منفرد تخلیق کا ر ہیں ۔ جو بچپن سے ہی ادبی شاہراہ پر ادبی خدمت کے لیئے گامزن ہےں۔ آپ شروع سے ہی کہانی و افسانے لکھنے اور پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ نے کم عمری میں ہی اپنی پہلی افسانوں پر مشتمل کتاب چھپوائی۔ ان کے فسانے مخض کہانیاں نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی تمام برائیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا مقصود ہے اور ادب کو پروان چڑھانا ہے۔ وہ کہانی کو ایسے انداز میں لکھتے ہیں کہ پڑھنے اور سمجھنے والے اذہان آسانی سے سارے مناظر کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں گویا کہ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور وہ سارے کرداروں کو اپنی آنکھوں اور فہم سے آنکھ مچولی کرتے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ انھیں پڑھتے ہوئے ذرا سی بھی بوریت کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی ۔اگر ہم ان کے افسانوں کو پوری دل جوئی کے ساتھ اور ساری حِسوں (senses)کو حاضر رکھ کر پڑھتے ہیں تو مجھے امید ہے کہ یہ افسانے ہمیں معاشرے میں اعلی مقام پیدا کرنے میں سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں ۔
نعیم یاد کے افسانوں کی خوبی ہے کہ وہ خود کو پڑھواتے ہیں اور یہی کسی بھی صاحب بصیرت افسانہ نگار کا بہترین اور بنیادی وصف ہوتا ہے ۔ انکی تمام کتابیں اور افسانے فنی و فکری سطح پر مستحکم ہیں ۔ زبان و بیاں میں سادگی بھی چھلکتی ہے ۔ہر کہانی میں جادوئی الفاظ موتیوں کی مانند قاری کو اپنے سحر میں مبتلا کرتے ہیں ۔ میں ان کی افسانہ نگاری کی تحسین کا آغاز ان کے افسانوی مجموعے ’پتھر روتے ہیں ‘ کے اقتباس سے کروں گا ۔
’اس سے پہلے کہ میں کوئی اور سوال کرتا اچانک باہر کے دروازے سے میلا کچیلا پھولوں سے سجا سہرا میری گود میں آگرا میں نے فوراً باہر دیکھا چودھری شریف ہنس رہا تھااور بولا ! سکندر اپنا سہرا سنبھال، اور جلدی کر بارات جانے والی ہے ۔ پھر وہ زور زور سے ہنسنے لگا مجھے اس کی ہنسی سے خوف آنے لگا دفعتاً اس کی ہنسی خوفناک آوازوں میں تبدیل ہو نے لگی اور پھر آنسوﺅ ں کی لڑی اس کے رخسار تک پہنچنے لگی اور وہ دوسری طرف چل دیا۔ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کئی ملازم اسے زنجیروں میں باندھے حویلی میں لئے جا رہے تھے ۔ پتنگ شاید کسی کیکر کے کانٹوں میں پھنس چکی تھی ‘۔
یہ افسانہ ایک ظالم چودھری وڈیرے کے مظالم کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے کئے گئے مظالم کا انجام بتاتا ہے۔مجھے نعیم یاد کی یہ خوبی بہت ہی اچھی لگی کہ وہ بہت خوبصورتی سے اپنے افسانوں کے عنوانات کو خوبصورت الفاظ کے موتیوںسے پروتے ہیں ۔ یہاں پر نعیم یاد کے ایک اور افسانوی مجموعے ’بے نام مسافتیں ‘ (جو حال ہی میں پبلش ہو کر ہماری لائبریریوں کی زینت بنا )سے ایک خوبصورت اقتباس آپ کی نذر کئے جاتے ہیں ۔
’پوری رات جاگنے کی وجہ سے چوک میں جمع تمام مردوزن کی آنکھیں نیند کی وجہ سے بوجھل ہیں۔ لیکن موت و زلزلہ کا خوف ہے کہ انھیں جاگنے پر مجبور کر رہا ہے۔ جوں جوں وقت تین کے قریب ہو رہا ہے سب کی بے قراریاں بڑھ رہی ہیں ۔ہر ایک کو اپنا اپنا کیا ہوا سامنے نظر آرہا ہے ۔ کچھ لوگ ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت سے بنائی جانے والی اپنی کوٹھیوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے آنسو نکل آتے ہیں، ابھی چند پل میں یہ سب کچھ مسمار ہو جائے گا‘۔ (افسانہ۔۔۔۔۔۔زلزلہ)
نعیم یاد کی اب تک پانچ کتب شائع ہو چکی ہیں ۔جن میں ایک خواب جو ٹوٹ گیا، بے نام مسافتیں، پتھر روتے ہیں، نیناں دے سفنے ، اور آﺅ پیار کے دیپ جلائیں پھر شامل ہیں۔

لکھاری کے بارے میں :سراج احمد تنولی نوجوان صحافی ،کالم نگار، بلاگر ہیں

بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

وقاص عزیز

وقاص عزیز نیو کےنیوزاینکر،نوجوان شاعر اور سماجی ورکر ہیں