پر امن احتجاج کے اوپر دہشت گردی کا کیس بنا دیا گیا، عمران خان

اسلام آباد: ضمانت منظور ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیس بنایا گیا اور پر امن احتجاج کے اوپر دہشت گردی کا کیس بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ مجھ پر دہشت گردی کے کیس کر سکتے ہیں تو کسی پر بھی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ لوگ دہشت گردی کے نام پر کسی کے بھی وارنٹ نکال سکتے ہیں اور یہ ایک سیاسی کیس تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش، چاروں مقدمات میں ضمانت منظور

چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے جس دن اسحاق ڈار کا نام نیب میں آیا انہیں اسی دن مستعفی ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان پر اربوں کی کرپشن کا کیس ہے اور منی لانڈرنگ کرنے والا ملک کا وزیر خزانہ کیسے ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا عمران خان اور پی ٹی آئی کی آواز دبانے کے لیے سیکڑوں کارکنان پر پرچے درج کیے گئے جو لوگ ان مظاہروں کے دوران ریاستی تشدد سے مارے گئے ان کا کوئی پرچہ درج نہیں ہوا جس طرح ماڈل ٹاؤن کا کوئی پرچہ درج نہیں ہوا۔

بابر اعوان نے کہا کہ یہ جمہوری احتجاج تھا جس کی قیادت عمران خان نے کی وہ کسی دفعہ کے تحت قابل دست اندازی جرم نہیں تھے اور پولیس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت نواز شریف ریاستی طاقت استعمال کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام مقدمات سیاسی ہیں جو ناکام ہوں گے اور ہم ان مقدمات میں سرخرو ہوں گے کیونکہ اب کوئی عمران خان کا راستہ نہیں روک سکتا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں