بلیوویل گیم نے پاکستان میں اپنا پہلا شکار کر لیا

پشاور:عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بلیو وہیل کاٹتی نہیں ہے مگر پاکستان میں بلیو وہیل نے نوجوانوں کو شکار کر نا شروع کر دیا ہے، تفصیلات کے مطابق بلیو وہیل گیم خودکشی کے رجحان میں اضافے کا باعث بن رہی ہے،اب خبیر پختوخواہ میں نوجوان لڑکے اس گیم کو کھیلنے میں مصروف اور تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر عمران خان خیبر پختوخواہ لوگوں کے نفسیاتی مسائل کو دیکھ رہے ہیں انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مردان سے تعلق رکھنے والے دو لڑے جن کی عمریں 21اور 19سال ہیں ان لوگوں نے مجھ سے شدید ڈپریشن کی حالت میں رابطہ کیا اُن کا کہنا تھا وہ بلیو وہیل کے ٹاسک کو پورا کرنے کے چکر میں شدید ڈیرپشن کا شکار ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر خان کا مزید کہنا تھانوجوان لڑکے اس گیم کو کھیلنا پسند کرتے ہیں مگر جوں آپ اس گیم کو مزید کھیلتے جاتے ہیں جوں جوں گیم کے ٹاسک مشکل سے مشکل طر ہو جاتے ہیں۔یہاں تک تک ایک وقت آتا ہے کہ جب آپ کو کہا جاتا ہے کہ اپنے ہاتھ پر بلیو وہیل کو کھود کر دکھائیں۔

ڈاکٹر خان نے انکشاف کی جب بچوں کو اندازہ ہوا کہ وہ اس گیم کے ٹریپ میں پھنس چکے تو اِنھوں نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر کان نے مریضوں کے نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے بتا یا کہ ان میں ایک نوجوان آئی ٹی کا ماہر ہے اور وہ صرف یہ دیکھ رہا تھا کہ آخر یہ گیم اصل میں ہے کیا؟

یا درہے یہ گیم گروپس کی شکل میں کھیلی جاتی ہے اور ایسے گروپ روس، برطانیہ، یوکرائن، سپین،فرانس اور اٹلی میں بنائے گئے ہیں،بھارت بھی اس کا شکار ہوچکا ہے جہاں دو بچوں نے گیم کا ٹاسک پورا کرنے کے چکر میں خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں۔