سی این جی اسٹیشن پر کھڑے خودکش بمبار

کراچی میں طے شدہ ہفتہ وار "اوقات نامہ" کے مطابق سی این جی دستیاب ہوتی ہے۔کل حسبِ معمول گھر سے دفتر آتے ہوئے آٹھ بجے سے پہلے پہلے گاڑی میں سی این جی ڈلوانی تھی کیونکہ اگلے چوبیس گھنٹے سی این جی دستیاب نہیں ہونی۔ ساری دنیا میں حفاظی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ انسانی زندگی کی قدر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تقریباً ہر ادارہ اپنے ملازمین کو بنیادی حفاظتی تعلیم دلوا رہا ہے۔ اکثر اداروں میں حفاظتی امور کے اطلاق کیلئے باقاعدہ خصوصی اہلیت کے حامل افراد رکھے جاتے ہیں۔ حفاظتی تعلیم دینے کا ایک مقصد اپنی املاک کو محفوظ بنایا جائے تو دوسری جانب یہ املاک ادارہ میں کام کرنے والے ملازم کی بدولت ہی محفوظ بنائی جا سکتی ہیں اور اسکے لئے ان لوگوں کو کسی بھی قسم کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تیار کرنا ہوتا ہے اور یہ کام بذریعہ تربیت کیا جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں اداروں کو اندرونی پیچیدگیوں سے اتنا خطرہ لاحق نہیں ہوتا جتنا کہ بیرونی عوامل اس طرح کی سرگرمیوں کا باعث بنتے جارہے ہیں۔

بات ہورہی تھی آج صبح سی این جی اسٹیشن پر رونما ہونے والے واقع کی الحمدوللہ ہوا تو کچھ بھی نہیں ورنہ آپ یہ مضمون کم از کم راقم کے قلم سے لکھا، نہیں پڑھ سکتے، ہم سی این جی کی لائن میں پہنچے تو ہمارے آگے قسمت سے ایک ہی گاڑی تھی جسکے ساتھ ایک انتہائی معزز حضرت کھڑے تھے جوگاڑی میں گیس ڈلوا رہے تھے اچانک سے انکا ہاتھ انکی چست پتلون کی جیب میں گیا اور ساتھ ہی موبائل فون لئے رونما ہوا ابھی وہ فون کی اسکرین کو بغور دیکھ رہے تھے ہمارے ذہن نے چوکنا کیا اور ہم نے سوچا کہ یا تو گاڑی پیچھے کی جانب تیزی سے نکالی جائے

یا پھر باآوازِ بلند کلمہ طیبہ پڑھ لیا جائے

کیونکہ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے فون موصول کرنا تھا (اور کیا بھی) پھر ہمیں کچھ نظر نہیں آنا تھا مگر ہماری جان کے مالک کو ابھی ہماری مضمون نگاری سے کچھ مسلئے مسائل کا حال کروانا مقصود نکلا یقیناً اور یہی وجہ رہی ہوگی کہ کوئی دھماکہ نہیں سنا گیا۔ یہاں پہلے ہمیں اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرنا پڑے گا کہ ہم نے ان معزز صاحب کو انکی اس جان و مکان لیوا حرکت سے آگاہ کیوں نہیں کیا، جان بچی سو لاکھوں پائے۔ اب ہماری باری تھی گیس والے نے گیس بھرنے کیلئے لگادی تو ہم نے اس قابلِ احترام شخصیت سے دریافت کیا کہ بھائی آپ نے "ان" صاحب کو موبائل فون استعال کرنے سے منع کیوں نہیں کیا تو سماع خراشی کرتے جواب نے دل خراش بھی کر دیا موصوف فرمانے لگے کہ

یہاں تو سارا دن ایسے ہی چلتا ہے یہ تو موبائل استعمال کر رہے تھے بھلے مانس تو یہاں کھڑے ہوکر سگریٹ سلگاتے ہیں، ہم کس کس کو منع کرینگے (اس نے ایک بورڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا) یہاں پر لکھ کر لگادیا ہے اب کوئی نہیں مانتا تو کیا کریں۔

ہم نے اس زندگی سے مایوس شخص میں زندگی کی رمق پیدا کرنے کی کوشش کی اور اسے یہ بات باور کروائی کہ کسی بھی ایسے شخص کی غلطی جو یہاں (گیس اسٹیشن) پر کھڑے ہوکر موبائل فون سنتا ہے یا سگریٹ سلگاتا ہے اسکی اس حرکت سے "تمھاری قیمتی جان بھی جا سکتی ہے" اس نے معمول کیمطابق نوزل نکالی ہم سے رقم وصول کی اور ہمیں چلتا کیا کیوں کہ ہمارے پیچھے لائن لگ چکی تھی۔ شائد ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی تھی۔

اس شخص کی غیر ذمہ دارانہ روئے نے ہمارے ذہن میں اس مضمون کے عنوان کو جنم دیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ شخص (جو گیس بھر رہا ہے) زندگی سے مایوس ہے یا پھر اسے اپنی زندگی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے؟ اسے کسی کی بھی زندگی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔ ایسے ہی افراد خود کش بمبار یا حملہ آور ہوتے ہیں۔ جنہیں زندگی جیسی انمول شے کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا اور وہ اس انمول شے یعنی زندگی کو فقط چند روپیوں کی خاطر ضائع کردیتے ہیں۔

ایسے ہی مایوس لوگوں کی ایک قسم اور بھی ہے وہ ہے موٹر سائکل سوار، ہماری سڑکوں پر موٹر سائکلوں کا ایک اژدھام نظر آتا ہے جن میں سے تقریباً ستر فیصد ایسے چلانے والے ہوتے ہیں جن کے  پاس "لائسنس" ہی نہیں ہوتا بس اٹھائی اور چلانا شروع ادھر گرے ادھر گرے پھر سیدھے اہم شاہراہ پر اور اس اہم شاہراہ پر ایسے جیسے کہ موت کے کنویں میں موٹرسائکل چلانے کا تماشہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ بھی چلتے پھرتے خودکش حملہ آور سے کم نہیں ہوتے کیونکہ اپنی ان اوٹ پٹانگ حرکات کی وجہ سے خود کو تو مشکل میں ڈالتے ہی ہیں ساتھ ساتھ آس پاس والوں کی زندگی بھی اجیرن کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

ایسے بیسیوں واقعات ہماری شاہراہوں پر معمول ہیں، روزانہ کہیں نا کہیں کسی نا کسی سڑک کے کنارے کوئی نا کوئی موٹر سائکل والا ہمارا بھائی اپنی ٹانگ یا پھر سر یا پھر زندگی ہارا پڑا ہوتا ہے۔

ایسے حالات و واقعات کی ذمہ داری ہم کسی نا کسی پر ڈال سکتے ہیں مگر پہلے ہم یہ دیکھ لیں کے ہم نے اپنی ذمہ داری کس حد تک نبھائی ہے.

کیا ہم مایوسی کہ گھنگھور اندھیروں میں گھری ہوئی پاکستانی قوم کو روشنی کی نوید نہیں دے سکتے ان میں زندگی کی خواہش پیدا نہیں کرسکتے؟

بلکل کرسکتے ہیں جس کیلئے "تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم" کا نعرہ ہر سطح پر لگانا ہوگا اور جس طرح دیگر اہم امور کو بروئے کار لانے کیلئے خصوصی گرانٹ دی جاتی ہے یا رکھی جاتی ہے اس اہم ترین منصوبے کیلئے کچھ سالوں کیلئے سارا کا سارا بجٹ مختص کرنا پڑے گا۔یہ ایک ایسا عمل ہوگا جو ہماری نسلوں کا "تصورِ حیات" تبدیل کرکے رکھ دے گا۔

 آئیں ہم کسی طرح سے بھی ایسے لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیں تاکہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی زندگیوں کی حفاظت کریں۔

مصنف کے بارے میں

شیخ خالد ذاہد

خالد ذاہد شعر کہنے کا شغف رکھتے ہیں،آرٹیکل اور بلاگ لکھتےہیں، انکا ماننا ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے