روسی ہیکرز کا امریکا میں بجلی کے نظام کو تباہ کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن: امریکا میں سائبر سیکیورٹی ماہرین نے الزام لگایا ہے کہ روسی حکومت کی سرپرستی میں وہاں کے ہیکرز نے ایک ایسا سائبر ہتھیار بنا لیا ہے جو بجلی گھروں میں نصب کمپیوٹروں کو نشانہ بنا کر بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام درہم برہم کر کے پورے امریکا کو اندھیرے میں ڈبو سکتا ہے۔اس بات کا انکشاف چند روز پہلے امریکی حکومت کو خدمات فراہم کرنے والی سائبر سیکیوریٹی فرم ڈریگوس نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے جس کے کچھ حصے امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تازہ خبر میں شائع بھی کیے ہیں۔

تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور ہیکنگ کے امریکی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم گزشتہ سال امریکی صدارتی انتخابات میں روسی ہیکروں کی مبینہ مداخلت کی تحقیق میں مصروف ہے جبکہ اس ٹیم میں مختلف نجی اداروں سے ماہرین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ان ہی تحقیقات کے دوران غیر متوقع طور پر انکشاف ہوا کہ گزشتہ سال یعنی 2016میں روسی حکومت نے اپنے ہیکروں سے کچھ ایسے خاص وائرس یا سائبر ہتھیار بھی تیار کروائے تھے جن کی مدد سے کسی بھی بجلی گھر کا نظام شدید طور پر متاثر کیا جا سکے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کریش اوور رائیڈ نامی اس وائرس کو دسمبر 2016میں یوکرین کے بجلی گھر پر آزمایا گیا تھا جہاں اس نے بجلی گھر کے صرف ایک پیداواری یونٹ کو کامیابی سے متاثر کیا اور بجلی کی پیداوار رکوا دی۔

خدشہ ہے کہ معمولی ترمیم کے بعد یہی وائرس امریکی بجلی گھروں کو بھی ناکارہ بنانے میں استعمال کیا جاسکے گا کیونکہ دنیا بھر میں بجلی گھروں سے منسلک کمپیوٹر اور ان پر چلنے والے پروگرام کم و بیش ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اس خدشے کو یوں بھی تقویت پہنچتی ہے کیونکہ حالیہ برسوں کے دوران امریکی اہداف کو نشانہ بنانے میں روسی ہیکروں کی دلچسپی مسلسل بڑھتی جارہی ہے جو امریکی نقطہ نگاہ سے شدید خطرے والی بات ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر پر اب تک امریکا کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی اور دوسرے متعلقہ اداروں نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا جبکہ ساتھ ہی ساتھ روس کی جانب سے امریکی بجلی گھروں پر سائبر حملوں کا معاملہ بھی صرف ایک امکان کی صورت موجود ہے۔ البتہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ یہ امکان کب، کیسی اور کس حد تک خطرناک حقیقت کا روپ دھار لے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں