کمرشل بینکوں کو صنعتوں اور کاروباری اداروں کو آسان شرائط پر قرضوں کے اجراءکا پابند کیا جائے، محمد اقبال

پشاور: سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد اقبال نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشل بینکوں کو پشاور سمیت خیبر پختونخوا میںچھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری اداروں کو آسان شرائط پر قرضوں کے اجراءاور ہر سال لینڈنگ کی شرح میں 10 فیصد اضافے کا پابند کیا جائے ۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سمیڈا کے باہمی تعاون سے ایس ایم ای سیکٹر اور کمرشل بینکوں کی جانب سے فنانشل پراڈکٹس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی غرض سے منعقدہ ایس ایم ای میلہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ کو 100فیصد مراعات دیکر واپس لیکر اسے صنعتوں کا قبرستان بنادیاگیا لیکن صوبے کے کاروباری افراد نے دوبارہ اس کو آباد کیا ۔ کمرشل بینکس صوبے میں سوتیلی ماں جیسا رویہ ترک کریں۔ ایس ایم ای سیکٹر کو فروغ دیکر صوبے میں صنعتی انقلاب لایا جاسکتا ہے ۔ سرحد چیمبر صوبے میں بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے ۔

اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی کے ایس ایم ای سیکٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران احمد  اسٹیٹ بینک پشاور کے چیف منیجر اور ریجنل ہیڈ اسد شاہ سمیڈا کے جنرل منیجر جاوید خٹک ¾ وویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر شمامہ ارباب اور مختلف کمرشل بینکوں کے حکام سمیت صنعت و تجارت سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے ۔

سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کیلئے بہت سی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں لیکن ان پالیسیوں کی تشکیل میں اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیاگیا جس کی وجہ سے ان پالیسیوں کے ثمرات اس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو نہیں ملے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر تاحال زبوں حالی کا شکار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں نے خیبر پختونخوا نے ریڈ زون ڈکلیئر کررکھا ہے اور ڈیپازٹ کے مقابلے میں لینڈنگ کی شرح 2فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کا شکار اس صوبے کی بزنس کمیونٹی نے گذشتہ 4دہائیوں سے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں لیکن اس کے باوجود اس صوبے کے صنعتکاروں اور تاجروں کو کمرشل بینکوں نے کوئی ریلیف نہیں دیا۔

مصنف کے بارے میں