کاش سے کاوش اور دیو سائی کی وادیوں تک  کا سفر

اس دنیا میں دو طرح لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو صرف بڑی بڑی مہمات(ایڈونچر ز)کے خواب دیکھتے ،دنیا کے مشکل سے مشکل کام کرنے کا شوق ان کی نس نس میں بھر ا ہوتاہے اور ایسے لوگ اپنے خوابوں میں حقیقیت کا رنگ بھی بھرلیتے ہیں۔اورایسے لو "کاش سے کاوش اور پھر کامیاب ایڈونچر کا سفر مکمل کر لیتے ہیں"۔ اور اگر اس خواب کو اپنے اہلخانہ کے ساتھ پورا کرنا ہوتو اسکی تعبیر کس جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔
خوبصورت و دلفریب لمحوں کو قید کرنے کا ہنر اور پُر خطر رستوں پر سفر کرنے کا شوق جب کسی انسان میں پا یا جائے تو ایسے انسان کے ہاتھوں تخلیق ہونے والی تصاویر کسی شاہکار سے کم نہیں ہوتیں۔ ایسے ہی ایک خوبصورت سفر کی کہانی پیشِ خدمت ہے۔ لاہور سے موٹر سائیکل پر'خیبر پختونخواہ' کی حسین وادیوں کا سفر کرنے والے خاندان کے بارے میں تو سب ہی نے پڑھا ہوگا ، لیکن کیا آپکو یہ معلوم ہے کہ سرد ہواؤں دشوار گزار راستوں کا سفر طے کرتے ہوئے ایڈونچر کا شوقین جوڑا جب سکردو کے دیوسائی نیشنل پارک میں جنت نظیر وادیوں کی گود میں پہنچا تو وہاں فوٹو گرافر عرفان یونس نے اپنی اہلیہ نسیم عرفان کی دلہن کے سفید لباس میں نہایت سحر انگیز تصاویر اتاریں۔
نسیم عرفان روئی کے گولوں جیسے سفید بادلوں کے درمیان سنہری زمین کے بیچ و بیچ مودود شفاف پانی کی ندی میں پتھروں پر کھڑی خود کو ہواؤں کے سپرد کرتی ہوئی نظر آتیں ہیں تو کہیں اپنے جیون ساتھی کے کسی جا دوئی نظارے کے حصار میں کھوئے ہوئے ٹکی ٹکی باندھے ایک ہی سمت دیکھتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ان تصاویر کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شہر کے شور شرابے سے دور اس وادی کے پُرسکون ماحول کی تازگی کو اپنے روم روم میں اتار رہے ہوں۔

پہاڑوں کی اوٹ سے چھپ کر دیکھنے کی بجائے دل کر تا ان حسین نظاروں کو دل کھول کر دیکھتے ہی جائیں ۔پہاڑوں کے آنگن کے ننھے پھول پہاڑوں کے دامن میں سفید خیموں کے درمیان اپنے والدین کے ساتھ اٹکیلیاں کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اونچے اونچے پہاڑوں کا سینہ چیر کر روئی کی طرح سفید پانی کی بوندوں سے بننے والے دریا کی تیز لہروں میں گھنٹوں کی محنت کے بعد پکڑی جانے والی چھوٹی سی مچھلی اس خاندان کے چہروں پر جیت کی میٹھی سی مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔اور جب شام کی سرد ہوا میں آگ کی تیز تپش میں بھات بھات کے مصالوں سے بھنی ہوئی مچھلی کو کھانے کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے ۔
رات میں اردگرد پہاڑوں سے گھرے خیمے سے ذرا باہر نکل کر آسمان کا نظارہ کرنے کا مزہ ہی الگ ہے ۔ ممکن نہیں ہوسکتاہے مگر آسمان پر تارے اتنے شفاف دکھائی دیتے ہیں کہ ان کو ایک ایک کر کے گِنا جا سکتاہے ۔ کبھی کبھار آسمان سے ٹوٹے تارے کی روشنی کی لمبی لکیر کو دیکھ دنیا بھر کے نظاروں کو دیکھنے کی خواہشیں دل میں ابھر آتیں ہیں ۔چودھویں کے چاند کی روشنی میں خیمہ کے ارد گرد کا ماحول اتنا صاف دکھائی دیتاہے کہ شہروں کی رنگیں بتیاں اور ان سے نکلنے والی مصنوعی روشنی کسی بھی صورت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔
دیکھنے والے کو ایسا لگتا ہے جیسے” مہم جو“ جوڑے اور ان کے بچے کے چہروں پر موجود ہنسی اور اطمینان انمول ہے۔ جو حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے یقیناً اس خاندان کے روڈ ٹرپ سے بہت سے ایسے خاندانوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی ہوگی جو گاڑی نہ ہونے کے باعث ایسے کسی سفر کا تجربہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔درست منصوبہ بندی اور وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو کوئی بھی خاندان نہایت آسانی سے ایسی کئی خوبصورت یادیں بنا سکتا ہے۔ اس چھوٹے سے خاندان کے اس سفر نامے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپ کو ایڈ ونچر پسند ہے تو آرام، سہولت، آسائش جیسی چیزوں کو پس پشت ڈالے بغیر کوئی ایسی دلفریب مہم پر نہیں جاسکتا۔

لکھاری کے بارے میں :- حریم امتیاز جرنلسٹ ،بلاگر ہیں ،آج کل نیوٹی وی نیٹورک سے وابسطہ ہیں ۔

نوٹ :-بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔