پانامہ کیس کا فیصلہ اور ٹامک ٹوئیاں

آج کا کالم بغیر کسی تمہید کے جبکہ باتیں صرف اور صرف اشاروں کنائیوں تک۔ باقی یہ پڑھنے والے کی ذہنی کیفیت اور دماغی استعداد پر منحصر ہو گا کہ نتائج اخذ کرنے میں وہ اپنی خواہشوں کی اسیری اختیار کرتا ہے یا پھر زمینی حقائق کی روشنی میں وقت کی آواز سنتا ہے۔ کہتے ہیں آوازِ خلق نقارہ خدا۔ ہمارا کام تو آوازِ خلق کی روشنی میں اس فضاء کی تصویر کشی ہے جو ہماری تیسری آنکھ جسے حرف خاص میں تھرڈ آئی بھی کہتے ہیں اپنے باطن کے پردوں کو چاک کرتے دیکھ رہی ہے۔ قارئین اس سلسلے میں ہمارے چڑے اور موکلات نے بھی خاصا کام دکھایا ہے.

اور ان دونوں کی رپورٹ کے مطابق آئندہ دو ہفتے کے دوران ملک کے جغرافیائی اور سیاسی موسم کے درجہ حرارت میں نہ صرف شدت برقرار رہتی نظر آ رہی ہے بلکہ اس میں اضافے کا بھی قوی امکان پایا جاتا ہے جسکے بعد ہوا کے کمْ دباؤ کو پورا کرنے کیلئے آسمان سے کچھ فیصلوں کا نزول ہوتے دکھائی دے رہا ہے جنکی وجہ سے غالباً کسی نازک مزاج مغلائی شہزادے کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

شنید ہے کہ گرم ہواؤں کی وجہ سے ہوا کے دباؤ میں شدید کمی ہو سکتی ہے جو کہ ہوا میں مطلوبہ آکسیجن کی مقدار کم ہونے کا باعث بن سکتی ہے اور سانسوں کی روانی اور آسانی برقرار رکھنے میں بھی مشکل لا سکتی ہے لہٰذا اس مشکل پر قابو پانے کیلئے یہ نازک مزاج شہزادہ سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی ٹھنڈی گلیات کی بجائے لندن کی آزاد فضاؤں کا رْخ کر سکتے ہیں۔

کہتے ہیں پاکستان کی سیاست میں کئی قتل اپنے بدلے کی امید لگائے اب بھی بیٹھے ہیں ان میں ایک عدالتی قتل بھٹو مرحوم کا تھا جسکے فریقین اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے۔ ایک اور قتل معصوم بینظیر کا بھی ہے جسکے کردار ابھی تک سامنے نہیں آ سکے۔ اسکے علاوہ اس ملک کی سیاست میں ایک نہیں چودہ افراد کے قتل کا ایک اور معمہ بھی حل طلب ہے۔ دیکھیں شاید اس موسم گرما کی گرمی زمین دوز یہ راز بھی اْگل دے یا اگلوا دے۔ موسم کی شدت صرف ایک فریق کیلئے مشکل پیدا کرتی نظر نہیں آرہی۔ معاملات صرف ایک لیکس تک محدود رہتے نظر نہیں آتے۔

معاملہ دو لیکس کا ہے۔ دوسری لیکس کے ٹھنڈ پروگرام کیلئے پہلے ایک بکرے کی قربانی دی گئی تھی لیکن بات صرف اس ایک قربانی سے بنتی نظر نہیں آ رہی تھوڑا خون اور شامل کرنا پڑے گا کیونکہ اکتوبر میں جن سے معاملات طے ہوئے تھے انکے ہاتھ میں اب چھڑی نہیں اور ویسے بھی بدگمانیوں کے ڈیرے پھر سے آباد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں دوسرے فریق کی جسکو کچھ دوست سیاست کا شعبدہ باز اور کچھ سیاست کے میدان کا صاحب کرامت بھی کہتے ہیں انکے لئے بھی راوی کوئی اچھی خبر نہیں لا رہا ہمارے چڑے کی رپورٹ کے مطابق گو کہ یہ شہسوار پچھلے دو سال سیاست کے میدان سے دور رہا لیکن اب یہ فریق ایک دفعہ پھر اپنی خیریت ثابت کرنے کیلئے سلاخوں کے پیچھے والی قیام گاہ کی زیارت سے مستفید ہونے میں ہی بہتری سمجھتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسکی دانست میں سلاخوں کی پیچھے والی قیام گاہ اسکے لئے اس وینٹی لیٹر کا کام دے سکتی ہے جو بسا اوقات ایک مردہ جسم میں پھر سے نئی زندگی کی حرکت لے آتی ہے۔

قارئین ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے شدید جھکڑ بھی چل سکتے ہیں جسکی وجہ سے بیس بیس تیس تیس سال سے کھڑے تناور درخت بھی زمین بوس ہو سکتے ہیں۔

ایک مشہور زمانہ فلم کا ڈائیلاگ تھا ’’اب تیرا کیا ہو گا کالیا‘‘ پاکستان میں کالیا تو پچھلے دنوں مر گیا لیکن اب بڑے بڑے بْرجوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا نظر آ رہا ہے۔ اگر صفحات کی صحیح ترتیب بیٹھ گئی تو پھر تجارت، سیاست، صحافت اور پتہ نہیں کہاں کہاں کے پاکبازوں کو اپنی پاکبازی ثابت کرنے میں پاپڑ بیلنے پڑ جائیں کیونکہ اس دفعہ روائیتی بْک بائنڈر جلد ساز کی بجائے واقعات کسی اور کے ہاتھ میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں اور جسطرح کراچی کے اس دہشتگرد کی بوگی کلبھوشن ایکسپریس سے جڑتی نظر آ رہی ہے قوی امکان پایا جاتا ہے کہ کالیا کی بوگی بھی اس سے جڑی نظر آئے کیونکہ کالیا بوگی کے کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ اس بوگی نے بھی اس ملک کی گود سے لوٹے لال اور مال کی باربرداری میں اپنا حصہ ڈال کر ایسا ہی کارنامہ انجام دیا ہے جیسے کارنامے کلبھوشن اور کراچی کے اس دہشتگرد نے انجام دئیے ہیں۔ دیکھیں اب اس ایکسپریس ٹرین میں اور کتنی بوگیاں جڑتی نظر اتی ہیں۔
کہتے ہیں جسطرح شوگر اور بلڈ پریشر انسانی جسم کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح دو بیماریاں کرپشن اور دہشتگردی ہمارے پاکستان کو کھوکھلا کر گئی ہیں۔اب جب ان کرپشن اور دہشتگردی کے بیوپاریوں کو اپنے اوپر عرصہ حیات تنگ ہوتے نظر آ رہا ہے تو آئندہ دنوں میں آپکو سڑکوں پر دھماکے کم اور تعلیمی اداروں میں لڑائی زیادہ ملے گی۔ عالمی سطح پر اپکی قوم کو بدنام کرنے کیلئے کہیں اس جنگ کو مذہبی عصبیت کا رنگ دیا جائیگا اور کہیں اسے صوبائی عصبیت کے تناظر میں رنگا جائیگا۔ میرے موکلات یہ بدگمانی نہیں پھیلا رہے بلکہ اس سلسلے میں پچھلے دو ماہ کے زمینی حقائق اس امر کے گواہ ہیں کہ جب سے آپریشن ردالفساد کے سلسلے میں بائیومیٹرک تصدیق کا عمل شروع ہوا تو کس قسم کا ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ تصدیق کا عمل ایک قانونی تقاضا ہے اور اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں پھیلی ہر برائی کی جڑ زندگی کے ہر شعبے میں مصلحت سے کام لیتے ہوئے قانونی تقاضوں کی نظراندازی ہے۔

اسکے ساتھ ساتھ دیکھیں کہ انہی دو ماہ میں ملک کی دو مشہور تعلیمی درسگاہوں میں کس قسم کی بربریت برپا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ان اکابرین کیلئے جو اپنی اپنی باری کے چکروں میں اصل حقیقت سے منہ موڑے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ انکے لئے صرف دو اشارے۔ عوامی مینڈیٹ کے گھمنڈیوں کیلئے 1999ء کے انجام پر ایک نظر اور دوسرے شہدا کی وراثت کے دعویداروں کیلئے ایک پیغام کہ اگر اصل وارث زندہ ہوگئے یا زندہ کر دیے گئے تو پھر۔۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ہمارے جیسے تو ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں۔ !

طارق امین سینئر کالم نگار ہیں اور قومی اخبارمیں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں

انہیں فیس بک پر فالو کریں Tariq Ameen