مشال خان: ایک ضروری وقفہ

پھلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مردان یونیورسٹی کہ معصوم طالب علم کا بھیمانہ قتل ایک مذہبی معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک قانونی اور تعزیراتی مسئلہ ہے۔ بادی النظر اسے بڑا مذہبی مسئلہ بنانا غلط ہے۔اس پر سیاست بھی نہیں ہونی چاہئے۔ المیہ یہ ہے کہ حتی کہ عوامی نیشنل پارٹی، جس کی دور حکومت میں اس یونیورسٹی میں کرپشن کے بوئے ہوئے بیج نے آج ہونھار طالب علم کی جان لے لی، وہ بھی اس کیس کو انتخابی سال میں تحریک انصاف کیخلاف استعمال کررہی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مشال خان قتل کیس یونیورسٹی انتظامیہ یا اس میں کچھ افراد کی جانب سے ایک طالب علم کو قتل کرنے کی سازش ہے۔ یہ عینی شاہدین کا کہنا ہے۔ مشال خان ،انتظامیہ کی نااہلی اور کرپشن پر بات کررہے تھے اسی لئے انھے خاموش کروایا گیا ہے۔ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ یہ مذہبی نہیں بلکہ سازشی قتل کیس ہے۔ اجتماعی قتل کے واقعات پاکستان میں پہلے بھی ہوئے ہیں اور ان کا زیادہ تر تعلق ریاست کی ہیبت میں کمی سے ہے۔ پولیس، جو کہ پاکستانی ریاست کی ہیبت کی علامت ہے، اسکا ڈر ختم ہوچکا ہے۔ وہ پاکستانی شہری جو یورپ اور خلیج میں سڑک پر سگنل نہیں توڑتے وہ یہاں اسطرح کا بھیمانہ قتل کرتے کتراتے نہیں ہیں کیونکہ یہاں ریاست اور قانون کی ہیبت نہیں ہے اور انہیں معلوم ہے کہ وہ بچ جائینگے۔ اسی لیئے میں ان لوگوں سے متفق نہیں ہوں جو اس افسوسناک واقعہ کو پورے پاکستان اور سارے پاکستانیوں کو برا بھلا کھنے اور دوسرے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

لیکن ایک دو اور مزید باتیں ہمیں کرنی پڑیں گی۔

ایک تو یہ کہ یہ عام واقعہ نہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ ایک ذہین باکردار طالب علم کا قتل کروائے، یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں مافیا طرز کی مجرمانہ سوچ جسکا مقصد ہے پیسہ کمانا پروان چڑہ رہی ہے۔ سیاست، مذہب، حکومت، فوج، ان سب اداروں میں بڑے کرپشن کیسز سامنے آئے ہیں۔ لیکن اب یہ سب کچھ ہماری یونیورسٹیوں میں ہو اور آواز اٹھانے والے طالب علم کو سازش کرکے قتل کروادیا جائے، یہ ایک خوفناک منظر ہے جو ایک بھیانک مستقبل کی پیشنگوئی کررہا ہے۔جس ملک میں یونیورسٹی انتظامیہ طالب علم کو قتل کروائے، جس ملک میں ہسپتال کا مالک سیاستدانوں سے مل کر پیسوں کیلئے کرائے کے قاتلوں کا علاج کروائے، جس ملک میں ایک ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے بڑے خاندان سے تعلق رکھنے والے قاتل کو یہ کہہ کر معاف کردے کہ میری بیٹیاں ہیں، جس ملک میں غریب چھوٹے بچے والے میاں بیوی کو زندہ جلادیا جائے تاکہ بھٹہ مالک کو انکی معمولی سی اجرت نہ ادا کرنی پڑے، ایسے ملک میں فائرنگ اسکواڈ چلنے چاہئیں. اتنے بڑے ظلم ہوجائیں اور ریاست خاموش، اشرافیہ خاموش، علماء خاموش، میڈیا خاموش. یہ اللہ کہ قہر کو دعوت دینے کے مترادف ہے. قل اعدلوا هو أقرب للتقوى۔

مشال خان کیس کا آخری پہلو مذہب کا ہے۔ اسے کچھ لوگ پہلا پہلو بنانا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ اصلاً ایک تعزیراتی کیس ہے، سازشی قتل ہے اور بھیمانہ اجتماعی تشدد کا کیس ہے۔ اس کیس کو بنیاد بناکر قانون توہیں رسالت کو نشانہ بنانا صحیح نہیں۔ بنیادی مسئلہ سے ہٹ کر پاکستانیوں کو ایک ایسی بحث کیطرف  نہ دکھیلاجائے جو پاکستانیوں کو تقسیم کرے۔ اصل مسئلہ بیت واضح ہے، یعنی کہ مردان یونیورسٹی میں کرپشن چھپانے کی کوشش اور اسکے نتیجے میں قتل کی سازش اور اجتماعی تشدد۔ اس اصل مسئلے پر سزائیں ہونی چاہیئیں۔

قانون توہین رسالت کا مشال خان کیس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ میں بہت سے غیر ملکی دوستوں سے اکثر کہتا ہوں کہ اس قانون کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ یہ تاریخ انگریز کے دور تک جاتی ہے۔ اس دور میں استعماری طاقت نے توہین کے مرتب کرنے والوں کی پذیرائی کی اور پاکستانیوں اور بھارتیوں کے اجداد کو آپس میں لڑوایا۔ یہ قبضہ جمانے کے روایتی طریقے ہیں جو انگریزوں نے بھی اپنائے۔ پاکستان کے مذہبی طبقے کا اس قانون کے ساتھ لگاؤ اس تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ ذوالفقار بھٹو اور جنرل ضیاءالحق دونوں نے، انگریزوں کیطرح، مذہب کے نام پر وقتی سیاست کی، لیکن کیونکہ توہین رسالت اس خطے میں انگریزوں کی وجہ سے بھت پہلے مسئلہ بن چکا تھا، اسلیئے یہ قانون کسی نہ کسی وقت بننا تھا۔ مجھےاپنےغیر ملکی دوستوں کو یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ یہ قانون غلط نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان ممالک میں اسطرح کے قانون ہیں، اور کچھمسلمان ممالک میں نہیں بھی ہیں۔توہین رسالت پر قانون ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جس طرح انبیاء علیھم السلام کے بارے میں یورپ حد سے زیادہ لیبرل ہے اسطرح امریکہ نہیں ہے، ہم تو دور کی بات ہیں۔ اس لئے گزارش ہے کہ قانون توہین رسالت کو خامخواہ مشال خان بھیمانہ قتل کیس میں نہ گسیٹا جائے۔ مشال کی کیس توہین رسالت کی کیس نہیں ہے بلکہ ایک سازشی قتل کیس ہے جہاں یونیورسٹی انتظامیہ یا اسکے کچھ لوگ اپنی کرپشن اور نااہلی پر بولنے والے طالب علم کو خاموش کرگئے۔

لیکن اگر قانون توہین رسالت کا مشال خان کیس کے حوالے ذکر ہورہا ہے تو وہ اس لٰئے ہے کیونکہ توہین اور گستاخی کے الفاظ مشال خان قتل سازش میں استعمال کیئے گئے ہیں۔ اور پھر قانون کو ہاتھوں میں لے کر اجتماعی تشدد اور قتل کیا گیا ہے۔ یہاں پر حکومت، عدلیہ اور علماء کرام نے اب یہ ایک واضح پیغام دینا ہوگا کہ توہین اور گستاخی کا الزام دشمنی کی بنیاد پر نہیں لگایا جاسکتا، اور یہ کہ الزام لگانے کیلئے قانونی کارروائی کرنا اور ثبوت ہونا لازم ہے، قانون ہاتھ میں نہیں لیا جاسکتا اور اگر ممکن ہوسکے تو قانون میں شق ڈال دی جائے کہ توہین یا گستاخی کے غلط الزام کی سزا ہے، اور یہ سزا سخط ہونی چاہئے۔

مختصر یہ ہے کہ قانون توہین رسالت بہترین قانون ہے، اس قانون کا مشال خان کیس سے کوئی تعلق نہیں، اور مشال کیس کی آڑ میں اس قانون کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ اس قانون کی آڑ میں دشمنیوں اور غلط الزام پر قتل کئے گئے ہیں۔ قانون میں غلط فہمی کی بنیاد پر کیسز کا تدارک کرنے کی بھی گنجائش ہونی چاہئے۔

آخر میں ایک سوال رہتا ہے: ۵۷ مسلم ممالک ہیں لیکن سب زیادہ توہین اور گستاخی کے کیسز پاکستان میں کیوں نظر آتے ہیں؟ مشال خان کیس میں مجرموں کو توہین کا الزام لگا کر طالب علم کو قتل کرنا اتنا آسان کیوں تھا؟ ۵۷ مسلم ممالک ہیں لیکن پاکستان میں ہر سال توہین اور گستاخی کے اتنے کیسز سامنے کیوں آتے ہیں؟

ہم نے اپنی قوم کو متحد رکھنا ہے اور ساتھ ساتھ دشمن کو بھی موقع نھیں دینا۔ بھارت دنیا میں گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں لوگوں پر اجتماعی تشدد اور قتل کرنے کی وجہ سے بدنام ہوچکا تھا لیکن مردان کیس نے دوسروں کو موقع دیا کہ وہ یہ کہیں کہ پاکستانی اور انڈین ایک لوگ ہیں، ایک جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔ وہاں گائے کا بہانا، یہاں توہین کا۔ جسطرح بھارت نفرتوں کا گڑھ ہے، اسکا پاکستان سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مردان یونیورسٹی جیسے واقعات دشمن کا کام آسان کردیتے ہیں۔

احمد قریشی نیو نیوز میں صحافی اور اینکر ہیں۔


ahmed.quraishi@neonetwork.pk