عمران خان کی اخلاقی فتح!

ہم پاکستانیوں کیلئے اچانک سے کچھ اچھا ہونا اور پوری قوم کیلئے ہونا اب نا ممکن سی بات لگتی ہے۔ آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسی بات ہے، بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان کا وجود میں آنا برِصغیر کے مسلمانوں کیلئے واحد ایک ایسی خبر واقع ہوئی ہے جس پر پوری قوم خوش ہوئی ہوگی۔ 1992 میں بھی ایک دن ایسا گزرا تھا جب پوری قوم نے خوشی منائی تھی پھر 1998 میں ایک دن ایسا گزرا مگر پھر تو صدمے ایسے ملے کہ پوری قوم نے افسوس منایا اور مناتی جا رہی ہے۔  ابھی مشعال خان کی موت کا معمہ حل نہیں ہوسکا تو دوسری طرف اسلام آباد ہوائی اڈے کا واقعہ رونما ہوگیا، قوم صدمے پر صدمہ برداشت کئے جا رہی ہے۔

20 اپریل کے دن کو بھی بہت اہم قرار دیا جا رہا تھا ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ نے پانامہ کا تاریخی فیصلہ سنانا تھا مگر یہ دن بھی اپنی کوئی خاص یا خاطر خواہ اہمیت نہیں بنا سکا، فیصلہ آگیا اور ہم سب نے سن لیا۔

یہ وہ فیصلہ تھا جو شائد آدھی سے زیادہ پاکستانی قوم جانتی تھی

ہماری جس کسی سے بھی بات ہوئی اس نے مسکراتے ہوئے کہا جناب کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں صرف کمیشن بنے گا اور کوئی فیصلہ نہیں آنے والا اور ایسا ہی ہوا۔ اب پہلے تو ان تمام لوگوں کا دل کی گہرائیوں سے مشکور اور ممنون ہوں کہ ان کے تجربے اور تجزئیے نے اتنا صحیح اور درست فیصلہ قبل از وقت ہی اخذ کر رکھا تھا اور باقاعدہ سنایا بھی جا رہا تھا۔

ایک تو لوگوں کو یہ بات اپنے ذہنوں میں صاف کر لینی چاہئے کہ پانامہ کیس میں ہارنے والے ہمارے محترم وزیرِاعظم صاحب ہوسکتے تھے اور اب جیسا کہ وہ ہارے نہیں یا شائد انکی ہار اگلے دو ماہ کیلئے ٹل گئی ہے تو کوئی اور بھی نہیں ہارا۔  کیوں کہ پاکستان تحریکِ انصاف تو انصاف مانگنے کیلئے عدالت اعظمیٰ گئی تھی اب انصاف کیسے ہوا ہم نے دیکھ لیا ہے۔ عمران خان کی اخلاقی فتح ہوئی ہے۔

ہم پاکستانی گزشتہ کچھ سالوں سے جے آئی ٹی کی اصطلاح سے خوب بہلائے جا رہے ہیں، جس کا مطلب (اردو میں) مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کہ ہیں۔جسطرح ہمارے پچھلے وزیرِ داخلہ صاحب نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے موبائل سروس بند کرنے کا حل نکالا تھا بلکل اسی طرح ہمارے موجودہ وزیرِ داخلہ صاحب نے جے آئی ٹیز پر زور دیا ہوا ہے۔ حل نا کوئی گزرے ہوؤں کے پاس تھا اور نا ہی کوئی حل ابتک یہ نکال سکے ہیں۔

اب ہم پاکستانیوں کو ایک اور لال بتی میرا مطلب ہے ایک اور جے آئی ٹی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے یعنی یہ 20 اپریل ایک اور دفعہ آنے کی توقع کی جاسکتی ہے قوم کہ پاس ایک موقع اور باقی ہے کسی قومی فیصلے کو سننے کا۔

ہمارے ملک میں صرف اور صرف وہی کام ہنگامی بنیادوں پر کئے جاتے ہیں جن کا تعلق ہمارے ملک کے اربابِ اختیار کو خوش کرنے یا انکے اہل خانہ کو خوش کرنے کیلئے ہوں۔ کسی وزیر کو گزرنا ہو تو راتوں رات سڑکیں بھی بنا دی جاتیں ہیں اور تو اور کچرے کے ڈھیر بھی غائب ہوجاتے ہیں۔ آخر یہ ملک کب ان سب خرافات سے آزاد ہوگا؟ آخر کب ہمارے وزیرِاعظم اپنے خلاف کسی بھی قسم کے الزام پر استعفیٰ پیش کردینگے۔ ہمارے اندر کب اخلاقی جرات پیدا ہوگی، ہمارے ادارے کب میرٹ پر کام کرینگے؟

شائد یہی وجوہات ہیں کہ ہمارے لوگ، ہمارا معاشرہ اتنا تنگ دل اور تشدد پسند ہوتا جارہا ہے کسی بات کا غصہ کسی بات پر نکل رہا ہے۔ ہم لوگ لاشوں کی بے حرمتی کرنے لگے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور نفسا نفسی ان ہی لوگوں کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔ہمارے ادارے کوئی بھرپور کام نہیں سکتے، آخر کب تک ہمارا عدالتی نظام ایسے ہی کام کرتا رہے گا کیا ہم کبھی کوئی دو ٹوک فیصلہ سن سکیں گے۔ جبکہ سب جانتے ہیں معاشرہ عدل کے بغیر نہیں چل سکتا۔ 

بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مصنف کے بارے میں

شیخ خالد ذاہد

خالد ذاہد شعر کہنے کا شغف رکھتے ہیں،آرٹیکل اور بلاگ لکھتےہیں، انکا ماننا ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے