خصوصی افراد اور ہمارے سماجی رویے

سماجی رویے کسی بھی معاشرے کی کسوٹی ہوتے جس پر پرکھا جاسکتا ہے، کہ اس کے افراد کس حد تک مہذب تہذیب یافتہ اور شعور رکھتے ہیں . لیکن اس سے پہلے کے ہم پاکستانی معاشرے کا اپنے خصوصی افراد کے متعلق رویوں کو زیر غور لانا ضروری ہے، ماہرین نفسیات و عمرانیات رویے کی وضاحت کیسے بیان کرتے ہیں اس پر بھی روشنی ڈال لی جائے۔

ماہرین کے مطابق دراصل رویہ وہ ردعمل ہوتا جو کوئی بھی فرد کسی دوسرے فرد یا واقع پر ظاہر کرتا جس کے پیچھے اس کی سماجی تعلیمی تربیت کارفرما ہوتی ہے یعنی گھر جو معاشرے کی پہلی تربیت گاہ سے لیکر راستے میں چلتے ہوئے کوئی پتھر اٹھانے تک انسانی شخصیت اور کے ردعمل کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے کا ہر فرد ایک ہی طرح کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں منفی اور مثبت روپے رکھنے والے دنوں طرح کے افراد موجود ہوتے ہیں ایک شخص راستے میں پڑے ہوئے کیلے چھکے کو بھی گاڑی سے اتر کر اٹھا دیتا ہے، کہ کہیں کوئی پھسل کر گر نہ پڑے اور دوسرا جان بوجھ کر بھی وہاں پھینک سکتا ہے، ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی چھوٹی سی وجہ پر بھی کسی کو قتل کردیا جاتا ہے اور کہیں عبدالستار ایدھی کسی لاوارث کی سڑی ہوئی لاش بھی اپنے ہاتھوں سے اٹھاتا ہے، لیکن ہم اس ردعمل کو سماجی رویہ کہیں گے جو اس کے افراد بہت بڑی اکثریت کی جانب سے سامنے آتا ہے، یہاں بھی میں ان رویوں کو ہی زیر بحث لاوں گا جو پاکستانی معاشرے کی اکثریت اپنے درمیان خصوصی افراد کے ساتھ روا رکھتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں جب بھی کسی معذور شخص اور نارمل انسان کا آمنا سامنا ہوتا تو نارمل انسان تین طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے اگر وہ معذور شخص کوئی بااثر دولت مند ہو اور کسی قیمتی گاڑی سے نکل رہا ہو تو نارمل انسان فورا اس کی ویل چیئر یا بیساکھی کے ساتھ کھڑے ہونے میں آگے بڑھ کر اس کی مدد کرے گا ،سلام دعا کے بعد سب سے پہلے پوچھا جائے گا کہ اس معذوری کی وجہ کا بنی وجہ معلوم ہونے پر سب سے پہلے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے پاس سے کوئی نسخہ تجویز کرے گا، پھر کسی وید حکیم سیانے یا کسی پیر فقیر کا پتہ دیا جائے گا اور اسرار کیا جائے گا کی ایک دفعہ وہاں ضرور جاکر تو دیکھیں سننے والا لاکھ کہے کہ اس نے تمام علاج کرواکر دیکھ لئے مشورہ دینے والے کی زبان رکتی ہی نہیں کیونکہ مشورہ دینے میں کون سا کچھ دینا پڑتا ہے۔
جب کہ سننے والے کیوں کہ اس کے قسم کے مشورے کئی بار سنتا رہا ہوتا ہے دل میں ناگواری لیکن چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتا رہتا ہے۔

اب ایک دوسری صورتحال کی طرف آتے ہیں ایک نارمل انسان ایک سادہ سے کپڑے پہنے معذور شخص کو بیساکھی کے سہارے یا ہاتھ سے چلائی جانے والی ٹرائی سائیکل پر اپنی طرف آتا دیکھ کر سوچے گا کے یا تو یہ مجھے اپنی کوئی مجبوری بتا کر پیسے مانگے گا یا اگر اس کے گلے میں سبز رنگ کا ربن اور کارڈ دیکھ کسی این جی او کا کارکن سمجھ کر وہاں سے کھسکنے کی کوشش کرے گا۔اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتا تو پھر اپنے ذہن میں وہ بہانے تراشنے شروع کر دے گا۔ جس سے اسے کچھ دینا نہ پڑے مثال کے طور پراس کا جواب کچھ ایسے ہونگے ارے بھائی میں تو پہلے ہی صدقہ خیرات دیتا ہوں تم محکمہ عشر زکات والوں سے رابطہ کرو یا کیا تمھارے پاس این جی او کا کارڈ ہے کہیں کوئی فراڈ این جی او تو نہیں تم ایسا کرو کل میرے دفتر آجاو وغیرہ وغیرہ۔لیکن اس سے بھی بری صورتحال کا سامنا کسی معذور شخص کو اس وقت کرنا پڑتا ہے۔ جب اس کی حالت انتہائی ناگفتابہ ہو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھ کر کوئی نارمل شخص اس کو پیشہ ور فقیر سمجھ کر دھتکار دیتے ہے چند سکے تو خیرات ضرور کردہ گا لیکن اسے لولا لنگڑہ کہے کر جند صلواتیں اسے اور کچھ سرکاری محکموں کو سنائے گا پر اپنے رویے پر کبھی شرم ساری محسوس نہیں کرے گا۔
یہ تو ایک عمومی تجزیہ تھا کہ کیسے ان خصوصی افراد کے ساتھ معاشرے کے افراد سلوک کرتے ہیں اب میں کچھ انفرادی واقعات بھی شیر کرنا چاہوں گا کہ کیسے انفرادی زندگی میں یہ خصوصی افراد اس بیمار سوسائٹی کے ہاتھوں ذہنی جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنتے ہیں گوجرانوالہ کے نواحی قصبے کے خصوصی فرد سلیم نے مجھے بتایا کہ وہ اور اس کے تین ساتھی جو کہ خود بھی معذور ہیں محلے کی ایک دوکان میں اکٹھے درزیوں کا کام کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اس قصبہ میں معذور افراد پر مشتمل ایک گروپ بنایا ہوا ہےایک دن خصوصی طور پر انہوں نے مجھے بلایا تاکہ اپنے گروپ کے ممبران سے مجھے ملائے اپنی گاڑی اور ڈرائیور کے ساتھ وہاں پہنچا تو آتے جاتے لوگ مجھے حیرانی سے دیکھنے لگے ۔میرے میزبان اور 20 کے قریب دوسرے خصوصی افراد مجھے یوں دیکھ رہے تھے جیسے وہ اس بات کی امید نہیں کررہے تھے ،کہ میں ان کی میٹنگ میں آوں گا میرا ڈرائیور جو بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے گھروں میں نوکری کرتا رہا تھا مجھے چپکے سے کہنے لگا صاحب جی یہ کتھے آگے ہو . میں نے اسے ڈانٹا اور ہر فرد کے پاس خود جاکر سلام کیا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ وہ میرے پاس نہیں آسکتے .

دوران گفتگو مجھے سلیم نے اپنی زندگی کے متعلق بتایا کی 8 کلاس پاس ہے لیکن غربت اور معذوری کے باعث درزی کا کام شروع کردیا، اب اس کی عمر 22 سال ہے اسنے مجھے سب سے عجیب بات جو بتائی وہ حیران کن تھی ۔کہنے لگا کہ جب وہ چودہ سال کا ہوا تو تین پہیوں والی موٹر سائیکل استعمال کرنے لگا اس سے پہلے وہ کبھی اپنے جیسے معذور افراد سے کبھی نہیں ملا تھا یعنی کوئی خاص دوست یا ایسی محفل جہاں اس جیسے ہی لوگ ہوں۔ اس نے بتایا ایک دن بازار میں اسے اپنےجیسا ایک ہم عمر نوجوان معذور شخص نظر آیا جو میری طرح تین ٹائروں والی موٹرسائیکل پے تھا ۔مجھے نا جانے کیوں اس سے شرم آنا شروع ہوگئی اور میں اس سے نظریں چرانے لگا اس کی کیفیت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم دونوں ایک ہی جرم کرتے پکڑے گے ہیں۔
سلیم مزید بتایا اتفاق سے کچھ روز بعد ہمارہ پھر آمنا سامنا ہوگیا اب کی بار میں نے اسے روکا اور ایک چائے والے کھوکھے کے پاس کھڑے ہوکر چائے پینے لگے کچھ ہی دیر کے بعد ہماری جھجک دور ہوچکی تھی۔ اور پھر ہم نے فیصلہ کیا ہم اپنے جیسے خصوصی افراد کو اکٹھا کرکے ایک گروپ بنانے تاکہ اپنی زندگی کی تنہائی کو ختم کر سکے . چناچہ قصبے کے چند اور خصوصی افراد ان کے گروپ میں شامل ہوگئے وہ اپنے دکھ درد مسائل غرض ہر چیز کو کبھی سلیم کی دوکان پر کبھی کسی پبلک پیلس پر یا کبھی کسی ایک گروپ ممبر کے گھر میٹنگ کی صورت میں کرتے . سلیم نے مجھے مزید بتایا کہ ایک روز اس کی دوکان کے باہر تھڑے پر ان کی میٹنگ ہورہی تھی کہ اس کا عزیز پاس سے گزرا اور کہنے لگا یہ کیا تم اپنے جیسے لنگڑے لولوں کو اکٹھے کرکے بیٹھ جاتے ہو۔

ایسا کہتے ہوئے سلیم اپنی آنکھوں کی نمی کو مجھ سے نہ چھپا سکا گفتگو آگے بڑھی تو ہر ایک نے اپنے معاشرہ کی بے حسی اور اپنے مسائل کھل کر بیان کئے ان کے کچھ سوالات ایسے تھے کہ جن کا میں جواب نہ دے سکتا تھا۔ کیونکہ اخلاقی معاشرتی اور مذہبی طور پر ان کے کچھ سوالات ایسے تھے کہ جن کے جوابات دینا کم از کم میرے لئے نا ممکن تھا تاہم کچھ جو تھوڑا بہت علم نفسیات اور فلسفہ و مذہب کے متعلق میں جانتا تھا جوابات دیتا رہا ان کی ہمت بندھواتا رہا حوصلہ دیتا رہا اچھے دنوں کی امید دلوتا رہا لیکن میرا دل یہ جانتا تھا کہ جو معاشرہ اب تک اپنی راہیں متعین نہ کرسکا وہ بھلا ان کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں کیا رہنمائی کرے گا۔
آخر میں ایک اور واقع بتانا چاہوںگا آپ کو یاد ہوگا، کہ دو سال پہلے نابینا افراد پر لاہور میں پالیس نے لاٹھی چارج کیا یہ وہ ہی پنجاب پولیس تھی جس نے ماڈل ٹاون میں چودہ بت گناہ افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا ۔بحرکیف میں میں اس حتجاج کا ذکر کررہا تھا جو نابینا افراد اپنے حقوق کے لئے کررہے تھے پولیس کی اس بربریت پر پورے ملک میں خصوصی افراد کی تنظیموں نے احتجاج ریکارڈ کرواے ایسی ہی ایک این جی او نے مجھے بھی اپنے مظاہرہ میں آنے کا کہا جب میں وہا پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ کئی سیاسی شخصیات کو جن کا تعلق مختلف پارٹیوں سے تھا۔ بھی بلایا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا ۔

میں نے اس میں شرکت کرکے اپنے حصہ کا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ۔ اس مظاہر کی تصویریں دوسرے دن خباروں میں چھپیں تو مجھے کئی لوگوں نے کچھ اس طرح کے ریمارکس دیے کہ تھواڈی تصویر چھپی تھی انیاں دے نال یعنی آپ کی تصویر ان اندحوں کے ساتھ چپھی تھی میں نے ان کے ان کے لہجہ میں نفرت اور طنز کو واضح طور پر محسوس کیا لیکن میں چپ چاپ ایسی بات سنتا اور دعا دیتا رہا کہ اللہ سب کو صحت و تندرست رکھے کیونکہ اس معاشرتی بے حسی پے رونے یا بحث وہاں کی جاتی ہے جہان سماج میں شعور اور اخلاقی اقتدار بلند ہوتیں۔

نوٹ : بلاگ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔نیونیوز نیٹ ورک کا بلاگر کی رائے اور نیچے آنے والے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

لکھاری :- سردار ریاض الحق ،پولیٹکل سوشل ایکٹویسٹ اور رائٹر  اور کالم نگار ہیں ، خصوصی افراد کی تنظیم سے بھی وابسطہ ہیں ۔