پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان کی انقلابی ایجاد نے دنیا کو حیران کر دیا

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان کی انقلابی ایجاد نے دنیا کو حیران کر دیا

لندن: کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور بات سچ بھی ہے اور اسی سچ کا مظاہرہ کیا ہے پکستانی نژاد برطانوی شہری نے جس نے ایک سادہ آن آف سوئچ بنا کر پوری دنیا کو حیران کردیا ہے یہ سوئچ سمارٹ فون کے ذریعے استعمال کیا جائے گا ۔ پاکستانی نڑاد برطانوی نوجوان موجد اپنی سادہ اور حیرت انگیز ایجاد کی بدولت اب تک 13 کروڑ روپے (10 لاکھ برطانوی پونڈ) کی رقم بطور سرمایہ جمع کرچکا ہے۔


یاسر خٹک کی عمر اس وقت 21 برس ہے اور انہوں نے اسکول کے دور میں ایک سادہ سوئچ اور ساکٹ بنایا تھا جسے اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایپ استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار اور حفاظتی اقدامات سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ یاسر نے اسکول کے ایک پروجیکٹ میں کیا تھا۔
اب یاسر خٹک نے ایک ٹیکنالوجی کمپنی (اسٹارٹ اپ) بنالی ہے اور ان کی ایجاد کو اگر صرف برطانیہ میں ہی استعمال کیا جائے تو اس سے سالانہ پونے 2 ارب پونڈ کی بچت کی جاسکتی ہے۔ موبائل کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کرکے گھریلو روشنیاں اور برقی آلات کھولے اور بند کیے جاسکتے ہیں۔
نوجوان نے ممتاز سائنسدان سرجیمس ڈائسن کی سوانح سے متاثر ہوکر ایسی شے بنانے کا ارادہ کیا جو روزمرہ استعمال ہوسکے اور اس سے رقم کی بچت بھی ہوسکے۔ ان کی ایجاد نے اسکول میں ہی 20 ہزار پونڈ کی سرمایہ کاری حاصل کرلی تھی۔


یاسر خٹک کی ایپ فون چارجر سے لے کر فالتو بلبوں تک کو اس وقت بند کرتی ہے جب وہ استعمال نہیں ہورہے ہوتے۔ صرف برطانیہ میں ہی لوگ 16 فیصد بجلی ضائع کردیتے ہیں جس سے 25 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
اس ایپ کے لیے پہلے سے استعمال ہونے والے سوئچ کو دور سے آن آف کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ یاسر کے مطابق اس سسٹم سے بچے، بوڑھے اور دیگر ایسے افراد بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جنہیں اٹھنے اور بیٹھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا جن کا ہاتھ بجلی کے نظام تک نہیں پہنچ پاتا۔