ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر والے اشتہار پر مولانا کی تصویر

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر والے اشتہار پر مولانا کی تصویر

ممبئی :بھارت کی ریاست مہارارشٹر میں ایک مولانا نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی حمایت میں لگنے والے پوسٹروں پر اپنی تصویر شائع ہونے پر اعتراض کردیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مندر کی حمایت میں لگنے والے ان پوسٹروں میں بعض مسلم مذہبی شخصیات کی بھی تصویریں ہیں۔


جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام رام مندر کی تعمیر کی حمایت کر رہے ہیں۔لیکن پونے کے ایک مولانا شہاب احسن کاظمی نے الزام عائد کیا کہ اس پوسٹر میں ان کی مرضی کے بغیر ان کی تصویر لگائی گئی ہے۔ان پوسٹروں پر'ہو جنم بھومی پر مندر تعمیر، مسلمانوں کا بھی ہے یہی ارمان' جیسے نعرے درج ہیں۔

مولانا احسن کاظمی کا کہنا تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ پوسٹر پر میری تصویر ہے تو میں پریشان ہو گیا۔ مجھ سے پوچھے بغیر ہی میری تصویر اور نام کا استعمال کر لیا گیا۔ میں ان لوگوں کو جانتا تک نہیں ہوں۔ انھوں نے اپنے فائدے کے لیے ایسا کیا ہے۔ جب یہ معاملہ کورٹ میں ہے تو پھر اس مسئلے پر میں کون ہوتا ہوں کچھ بھی کہنے والا۔سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں ایک شاخ مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے جو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی تعمیر کی حامی ہے۔

ا گر کسی پوسٹر پر مولانا کی تصویر چھپی ہے تو اس بارے میں مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں کیونکہ میں نے ایسا کوئی پوسٹر نہیں چھپوائیں۔ان مذکورہ پوسٹروں پر مزید چھ ایسے افراد کے نام اور تصویریں ہیں جو مسلم کمیونٹی کی معروف شخصیات ہیں۔ انھیں میں مولانا کاظمی کا بھی نام تھا۔ مولانا کاظمی نے کہا کہ انھوں نے اس معاملے کی شکایت پولیس کمشنر سے کی ہے۔ہندر انتہاپسند کارکنوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا اور اس کے ملبے پر اب ایک عارضی مندر تعمیر ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور اسی کی سماعت کے موقعے پر اس طرح کے پوسٹر یو پی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔