نیب کو ایف آئی اے میں ضم کردیں: شاہد خاقان عباسی

نیب کو ایف آئی اے میں ضم کردیں: شاہد خاقان عباسی
فائل فوٹو

اسلام آباد:سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کی بے بسی اور مجبوری پر میری تمام تر ہمدردیاں اور نیک خواہشات اس کے ساتھ ہیں۔


انہوں نے کہا کہ نہ حکومت اور نہ ہی معیشت چل رہی ہے اورکرپشن بھی اس سے پکڑی نہیں جارہی ، ماسوائے ہمدردی کے ہم کر بھی کیا سکتے ہیں،مہنگائی اور گیس کے بل کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت آٹھ ماہ میں معیشت میں کوئی حل نہیں دے پائی ، میری ذاتی رائے ہے نیب کو ایف آئی اے میں ضم کردیں۔

مریم نواز کی ملاقاتوں کی مجھے کوئی خبر نہیں نواز شریف کو ریلیف عدالتوں سے ملنا ہے جس نے بی ٹیم بننا تھا بن گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اپنی حکمت عملی ہے ن لیگ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ابھی تک سڑکوں پر احتجاج پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ حکومت آٹھ ماہ میں معیشت میں کوئی حل نہیں پائی۔

حکومت کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے تھا اور پہلے ہفتے آئی ایم ایف جانے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ اگست 2018 میں آئی ایم ایف کی جو شرائط تھیں حکومت نے اس سے زیادہ کردیا ہے حکومت میں کوئی حل کی بات نہیں کرتا۔ حکومت نے سب کام چھوڑ دئیے ہیں پھر بھی کرپشن کا ایک کیس نہیں پکڑ سکے۔

نیب آزاد ہے تو وزیراعظم بتائیں کہ کونسی کرپشن پکڑی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ میرے اوپر نیب کے 6 کیس ہوگئے ہیں نیا کیس بنایا ہے کہ وزارت خارجہ کو گاڑیاں کیوں دیں۔حکومت سے ہمدردی ہے ،حکومت 2 افسر میرے پاس بجھوا دے گیس کے بل پرانی قیمت پر آجائیں گے۔ حکومت نے ایک پیسہ بھی گیس کی سبسڈی میں نہیں رکھا۔