ترکی بلدیاتی انتخابات،طیب اردوان کی جماعت کو شکست

ترکی بلدیاتی انتخابات،طیب اردوان کی جماعت کو شکست
Image by POLITICO Europe

انقرہ:ترکی پر 16 سال حکمرانی کرنے والے صدر رجب طیب اردوان کی جماعت کو بلدیاتی الیکشن میں دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں شکست ہوگئی ۔ اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے منصور یو ایس 50 فیصد ووٹ حاصل کر کے مئیر منتخب ہو گئے،انقرہ میں ترک حکمران جماعت کے مہمت اوزاسکی 47 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔


بلدیاتی الیکشن میں ووٹرز نے کئی شہروں کے میئرز، میونسپل کونسل اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب کیا۔دارالحکومت انقرہ میں ننانوے فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کو سینتالیس کے مقابلے میں تقریبا اکیاون فیصد ووٹ حاصل ہوئے ،استنبول جہاں صدر اردوان نے اپنے وفادار ساتھی سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو میدان میں اتارا ہے۔

استنبول میں بھی حکمران جماعت اور اپوزشین کے درمیان سخت مقابلہ ہوا ہے جب کہ جاری گنتی کے مطابق حکمران جماعت کے امیدوار سابق وزیراعظم بن علی یلدرم 41 لاکھ 11 ہزار 219 ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں جب کہ اپوزیشن جماعت کے ایکرم اگلو 41 لاکھ 6 ہزار 776 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ملک بھر کے نتائج کے مطابق صدر طیب اردگان کی جماعت اے پی کے کو کل 52 فیصد ووٹ ملے ہیں جب کہ الائنس نے 38 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

طیب اردوان نے انقرہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ استنبول میں میئر شپ نہ بھی ملی تو ڈسٹرکٹ کونسل پر انہی کا کنٹرول ہوگا۔طیب اردوان بولے، حکومت کی کچھ کمزوریاں ہیں تو انہیں دورکرنا ہمارا فرض ہے، کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقے میں کرد حمایت یافتہ ایچ ڈی پی جیت گئی جبکہ کئی شہروں میں حکمراں جماعت کو کامیابی ملی۔ مسلسل فتوحات سمیٹنے والے اردوان کی حمایت میں کمی کی وجہ معاشی سست روی، بے روزگاری میں اضافہ اور مہنگائی بنی ہیں۔