آدھے سر کے درد کی علامات اور علاج

 آدھے سر کے درد کی علامات اور علاج
بشکریہ انسٹا گرام

نیویارک: آدھے سر کا درد  خطرناک ہوتا ہے، مردوں کی نسبت خواتین اس درد کا زیادہ شکار ہوتی ہیں ۔علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجو ع کریں ۔ 


ہیلتھ نیوز رپورٹ کے مطابق ، سر درد کی مختلف اقسام ہوتی ہیں تاہم آدھے سر کا درد  ان سب میں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، سر درد کی سب سے شدید اور ناقابل برداشت قسم ما ئیگرین(آدھے سر کا درد) کہلاتی ہے ،مردوں کی نسبت خواتین اس درد کا زیادہ شکار ہوتی ہیں ۔

اس درد میں انسان روزمرہ کے کام سرانجام دینے سے قاصر ہو جاتا ہے۔عام سر درد کی دوا باآسانی دستیاب ہوتی ہے تاہم  ما ئیگرین کے لیے معالج کی تجویز کردہ دوا کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے ، عام طور پر 15 سے 55 سال کے افراد اس تکلیف کا شکار ہوتے ہیں ۔

ما ئیگرین کی اہم  وجوہات میں  نیند میں بے قاعدگی،کھانا وقت پر نہ کھانا،مایوسی اور اداسی کا جلد شکار ہونا،بہت زیادہ شوراور آلودگی ،تیز روشنی،سگریٹ نوشی،الکوحل کا زیادہ استعمال بھی شامل ہے جبکہ چائے ،کافی یا میٹھی اشیاءجیسے چاکلیٹ کا زیادہ استعمال بھی اس کا باعث بن سکتا ہے ، کچھ افراد میں یہ بیماری  موروثی وجوہات  کی بنا پر ہو  سکتی ہے۔ 

ابتداءمیں مریض کو آنکھ کے پچھلے حصے میں درد محسوس ہوتا ہے یہ عموماسر کے بائیں حصے کو متاثر کرتا ہے،اس کے بعد یہ پھیلتا ہوا آدھی پیشانی اور سر میں سے ہوتا ہوا گردن کے پٹھوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے،اس کی شدت انتہائی تیز ہوتی ہے ۔اور متاثرہ شخص روز مرہ کے کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔مریض روشنی،شور اور تیز بو کو برداشت نہیں کر سکتااورمریض کو اپنا سر پھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

 

اگر آپ مائیگرین یعنی درد شقیقہ جیسے مرض میں مبتلا ہو جانے والے افراد میں شامل ہیں تو آپ کو اپنے روزانہ کے معمول میں اپنی صحت کا خیال رکھنا ہو گا ،وقت پر کھانا کھانا،مناسب چہل قدمی،ڈپریشن سے دور رہنے اوربہت زیادہ سوچنے کی عادت کو ختم کرنا ہو گا۔

ماہرین کے مطابق ،فی الحال اس درد کی 100فیصد وجوہات کا تعین نہیں کیاجا سکا ۔اس درد کا دورانیہ 4 گھنٹے سے 72 گھنٹے تک کا ہو سکتا ہے۔