آئندہ دو ہفتے امریکیوں کے لیے انتہائی درد ناک ہوں گے، ٹرمپ

آئندہ دو ہفتے امریکیوں کے لیے انتہائی درد ناک ہوں گے، ٹرمپ
ماہرین نے وبا سے 22 لاکھ تک امریکیوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا تھا، ٹرمپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےخبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث آئندہ دو ہفتے امریکی شہریوں کے لیے بہت زیادہ درد ناک ثابت ہوں گے۔وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نظر نہ آنے والے دشمن کی وجہ سے امریکا میں اس طرح کی اموات ناقابل یقین ہیں۔


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف عوام کو خبردار کیا کہ کورونا کےسبب اگلے دو ہفتے انتہا سے زیادہ درد ناک ہوں گے جس کے لیے ہم سب کو تیار رہنا چاہیے تو دوسری جانب انہوں نے کہا کہ کسی بھی حوالے سے منفی سوچنا بہت ہی آسان ہے لیکن میں عوام کو امید دلاتا ہوں کہ ہمارے پاس اس سے نجات حاصل کرنے کا پورا موقع بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین نے وبا سے 22 لاکھ تک امریکیوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا تھا، کورونا کے باعث جو صورتحال چل رہی تھی اس سے ہر جگہ پر لوگ مر رہے ہوتے لیکن میری گائیڈ لائن کی وجہ سے اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ آپ لوگ جہازوں اور ہوٹل کی لابیز میں لوگوں کر مرتا دیکھ رہے ہوتے، اس ماڈل کے اعتبار سے 10 لاکھ تو بہت چھوٹا نمبر ہے۔

امریکی صدر نے کورونا کے باعث 2 لاکھ تک اموات کا خدشہ ظاہر کیا تھا جب کہ وائٹ ہاوس نے وائرس سے امریکا میں ڈھائی لاکھ تک اموات کا اشارہ دیا ہے۔

صدرٹرمپ کےمشیر ڈاکٹر فاؤچی نےتصدیق کی کہ ملک کو کم سےکم ایک لاکھ اموات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

امریکا میں کورونا بیماری سے منگل کو ہلاک افراد کی تعداد 800 کے قریب ہےجس سے وہاں مجموعی اموات تین ہزار 889 ہو گئی جب کہ ایک لاکھ 88 ہزار سےزائد افراد بیمار ہیں۔

امریکی ریاست نیو یارک کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہے اور ریاست کےگورنر اینڈریو کومو کے ٹی وی میزبان بھائی کرس کومو بھی بیماروںمیں شامل ہیں۔مریضوں کی بڑھتی تعداد کےسبب نیویارک کا سینٹرل پارک اسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں کورونا کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث امریکا میں اب تک 3 ہزار 900 کے قریب اموات ہو چکی ہیں جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔