سروسز ہسپتال سے ویکسین کی 550 خوراکیں غائب ہونے کی تحقیقات شروع

سروسز ہسپتال سے ویکسین کی 550 خوراکیں غائب ہونے کی تحقیقات شروع
کیپشن:   سروسز ہسپتال سے ویکسین کی 550 خوراکیں غائب ہونے کی تحقیقات شروع سورس:   file

لاہور: سروسز ہسپتال  لاہور میں کورونا ویکسین کی  550 خوراکیں غائب ہونے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی نے  سروسز ہسپتال میں  ریکارڈچیک کیا۔ فارماسسٹ اور ڈیٹا آپریٹر سے پوچھ گچھ  کی گئی۔ سیاست دان، بیورو کریٹس کے علاوہ سروسز ہسپتال کے پروفیسرز نے بھی اپنے رشتہ داروں کو ویکسین لگوائی ۔

نیو نیوز کے مطابق سروسز ہسپتال میں 550 کورونا ویکسین کی خوراکیں غائب ہونے  کے معاملے کی وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق تمام ویکسین سروسز ہسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ کے دور میں بیورو کریٹس ،سیاست دان اور وی آئی پی افراد کو ویکسین لگائی تھی۔ سروسز ہسپتال میں کورونا ویکسین صرف فرنٹ لائن ورکرز کو لگانے کے لیے ڈسک بنا تھا۔

سروسز ہسپتال سے 550 خوراکیں غائب ہونے اور مزنگ  ہسپتال  میں  350 خوراکیں ضائع ہونے پر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے گزشتہ روز  واقعات کی تصدیق کی تھی  کہ دو ہسپتالوں سے کورونا ویکسین چوری یا ضائع ہونے کی شکایات ملی ہیں۔‘

 ہمیں جیسے ہی شکایات موصول ہوئیں اسی وقت ہی انکوائری شروع کر دی گئی۔ ایک ہسپتال کی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد اس کے ایم ایس کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ سروسز ہسپتال میں بھی اسی طرح کی شکایات ملی ہیں۔

 وزیر صحت پنجاب کے مطابق ’ابھی تک اس کی انکوائری مکمل نہیں ہوئی، کمیٹی کی رپورٹ مرتب ہونے کے بعد اگر شکایات درست ثابت ہوئیں تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘ 

تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ شکایت بنیادی طور پر ویکسین چوری ہونے سے متعلق ہے یا ضائع ہونے سے متعلق ہے۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ ’مکمل انکوائری رپورٹس کا ابھی انتظار ہے اس کے بعد میڈیا کو تفصیل کے ساتھ ہر بات سے آگاہ کیا جائے گا۔‘