مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اکاؤنٹس چھپائے ہیں، فرخ حبیب کا دعویٰ

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اکاؤنٹس چھپائے ہیں، فرخ حبیب کا دعویٰ
کیپشن:   مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اکاؤنٹس چھپائے ہیں، فرخ حبیب کا دعویٰ سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہےکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی واردات پکڑی گئی ہے کیونکہ دونوں نے کِک بیکس اور ٹی ٹی کے لیے اپنے اکاؤنٹس استعمال کیے جنہیں اب چھپایا جارہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ ان کے فارم ون کی رپورٹ چیلنج کر رہی ہے اور فارم 1 کے اکاؤنٹس پی پی اور ن لیگ نے چپھائے ہیں۔ کیوں فارم 1 کے اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چپھائے گئے اور ان اکاؤنٹس سے متعلق اسکروٹنی کمیٹی پوچھ رہی ہے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی آمدن کے ذرائع اور اخراجات بتانےکی پابند ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) بتائے اس نے 12 اکاؤنٹ فارم ون میں کیوں ڈیکلیئر نہیں کیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مریم صفدر سرٹیفائڈ جھوٹی ہے کیونکہ وہ کہتی ہیں باہر تو کیا پاکستان میں بھی ان کی کوئی پراپرٹی نہیں۔ پیپلز پارٹی کے پرچی چیئرمین کی واردات بھی پکڑی گئی کیونکہ پیپلز پارٹی نے 7 اکاؤنٹس چپھائے ہیں لیکن اب ان کو پتلی گلی سے نکلنے نہیں دیں گے۔ 

خیال رہے کہ رواں ماہ 30 مارچ کو تحریک انصاف غیرملکی فنڈنگ تحقیقات سے متعلق اسکروٹنی کمیٹی نے جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرایا۔ کمیٹی نے تحقیقات میں تاخیر کا ملبہ درخواست گزار اکبر ایس بابر پر ڈالا۔ پی ٹی آئی نے اکاؤنٹس کا ریکارڈ اکبرایس بابر کو دینے کی مخالفت کی۔ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ اسکروٹنی کئی سال سے چل رہی ہے اور اب اسے مکمل ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی دستاویزات دیکھنا اکبر ایس بابر کا حق ہے۔

الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں 3  رکنی کمیشن نے تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت کی ۔تحریک انصاف نے اکاؤنٹس کا ریکارڈ اکبرایس بابر کو دینے کی درخواست پرجواب جمع کرایا۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ اکبر ایس بابر درخواستیں دیتے رہے تو اسکروٹنی کبھی مکمل نہیں ہو گی اور کسی ٹرانزیکشن پر اعتراض ہے تو اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

انہوں  نے مزید کہا کہ  غلط فنڈنگ ایک بندے سے بھی ہو تو ممنوعہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔لازمی نہیں کہ اکبر ایس بابر ہزاروں افراد کی ٹرانزیکشنز کو چیک کریں۔تحریک انصاف کے وکیل  کا کہنا تھا کہ جو دستاویزات اسکروٹنی کمیٹی نے جمع کیں وہ پبلک نہیں ہوسکتیں۔اکبرایس بابرکے وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جعلی دستاویزات پر ٹھپہ نہیں لگا سکتے۔

ممبربلوچستان نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن میں تمام دستاویزات کھلیں گی۔اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا جو مصدقہ کاغذ فراہم کرنے کا معیار میرے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہونا چائیے۔ کمیشن فیصلہ کر چکا ہے کہ جو دستاویزات  آئے گی وہ اوپن ہو گی ۔ پی ٹی آئی کی  سیکرسی آف انفارمیشن کی درخواست مسترد بھی ہو چکی ہے۔ مجھے کوئی بھی کاغذ دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ کمیٹی میں ہی فائل کو ایک نظر دیکھ لیں ۔