کابینہ نے سمری مسترد کر کے وزیراعظم پر اظہار عدم اعتماد کر دیا، شاہد خاقان

کابینہ نے سمری مسترد کر کے وزیراعظم پر اظہار عدم اعتماد کر دیا، شاہد خاقان
کیپشن:   کابینہ نے سمری مسترد کر کے وزیراعظم پر اظہار عدم اعتماد کر دیا، شاہد خاقان سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وزیرا عظم سمری منظور کرتا ہے کابینہ مسترد کر دیتی ہے۔ کابینہ کی جانب سے سمری مسترد کرنے پر وزیراعظم کا کابینہ کا سربراہ ہونے کا جواز نہیں رہتا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن کے 10 پریزائیڈنگ افسران کا ڈیٹا سپریم کورٹ میں دے دیا ہے، دس کے دس پریزائیڈنگ افسران کو ایک مخصوص مقام پر لے جایا گیا اور تمام پریزائیڈنگ افسران نے 13 گھنٹے تک ایک ہی جگہ قیام کیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن میں حکومت نے منظم دھاندلی کی، دھاندلی کے ثبوت سپریم کورٹ آف پاکستان میں دے دیئے ہیں، ڈسکہ الیکشن کے بارے میں مزید معلومات ملی ہیں، ڈیٹا سے ثابت ہوگیا منصوبے کے تحت الیکشن نتائج چوری کیے گئے۔ سپریم کورٹ پوچھے پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کرنے والا کون تھا، 2018 کے الیکشن میں بھی یہ ہی تماشہ ہوا، آرٹی ایس بند ہوا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق آدھے گھنٹے کا سفر 13 گھنٹے میں طے کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ان پریزائڈنگ افسران کو اغوا کرنے والا کون تھا۔ ہر پریزائیڈنگ افسر کے پاس حکومت کی گاڑی ہوتی ہے جبکہ ہر پریزائیڈنگ افسران کو پولیس مہیا کی جاتی ہے تاہم اب پورا الیکشن مشکوک ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سفارش پر غور کیا گیا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے سستی چینی منگوانے کی سفارش کی تھی۔

وفاقی کابینہ نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سمری کو مسترد کر دیا ہے۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اراکین کا کہنا تھا کہ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے جو مسائل ہیں ایسے میں بھارت سے یہ چیزیں منگوانا کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوگی۔

کابینہ کی جانب سے سمری مسترد کیے جانے کے بعد وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مناسب داموں پر دیگر ممالک سے چینی اور کپاس کی درآمد کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔