معیشت کی سمت کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات بھی ٹھیک طرح نہیں ہوئے: شوکت ترین

معیشت کی سمت کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات بھی ٹھیک طرح نہیں ہوئے: شوکت ترین
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ معیشت کس سمت جا رہی ہے، کچھ پتہ نہیں چل رہا جبکہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات بھی درست طریقے سے نہیں کئے گئے۔ 

تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کر تے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ معیشت کی سمت کا کچھ معلوم نہیں ہو رہا، جلد ہی اکنامک ایڈوائزری کونسل بن جائے گی جس کا چیف کنوینر میں ہوں گا، جہاز کا کپتان مضبوط نہ ہو تو کشتی آگے نہیں بڑھتی، اس لئے کپتان کو مضبوط ہونا پڑے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام مرحلہ وار کرنا چاہئے تھا مگر اس کیساتھ مذاکرات ہی ٹھیک طریقے سے نہیں کئے گئے، آئی ایم ایف پروگرام ملک کے عوام کیلئے ٹھیک نہیں، آئی ایم ایف سمیت مجھے کوئی بھی پنجرے میں بند نہیں کر سکتا اور اگر مجھے عہدہ ملا تو میں عوام کی بہتری کیلئے کام کروں گا۔ 

 شوکت ترین نے کہا کہ کسان مر رہے ہیں جن کی داد رسی کیلئے زراعت کے شعبے میں بھی اصلاحات کرنی ہوں گی جبکہ ٹیکس نہ دینے والوں کو جیل میں ڈالنا چاہئے ، یہ بھی ممکن ہے کہ مجموعی سوچ تبدیل کرنے کیلئے حکومتی ٹیم تبدیل کی گئی ہو۔ 

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کو وزارت خزانہ دینے کی آفر کی تھی جسے انہوں نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ جب تک مجھ پر نیب کے کیس ہیں کوئی حکومتی عہدہ قبول نہیں کر سکتا جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بننے پر راضی ہیں مگر کچھ معاملات نمٹانے کیلئے انہوں نے 15 سے 20 دن کا وقت مانگا ہے۔