شاہد خاقان عباسی پاکستان کے نئے وزیراعظم منتخب

شاہد خاقان عباسی پاکستان کے نئے وزیراعظم منتخب

اسلام آباد: نواز لیگ کے شاہد خاقان عباسی 221 ووٹ لے کر نئےوزیراعظم منتخب  ہو گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے 47 ووٹ لیے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ  شیخ رشید احمد نے 33 ووٹ حاصل کیے۔جماعت اسلامی کے امیدوار نے 4 ووٹ حاصل کیے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں نعرے بازی کے بعد بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ہے۔ن لیگ کے امیدوار کو توقع سے کم ووٹ ملے ۔شاہد خاقان عباسی کو 14 ووٹ کم ملے۔ شیخ رشید کو بھی توقع سے کم ووٹ ملے .پی ٹی آئی کے 6 اراکین نے اپنے منتخب نمائندے کو ووٹ نہیں دیے۔


مسلم لیگ ن کی جانب سے شاہد خاقان عباسی ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ شیخ رشید اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نوید قمر قائد ایوان کی دوڑ میں شامل تھے ۔ تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے نوید قمر کی حمایت میں اپنے کاغذات واپس لئے تھے اور ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما کشور زہرہ نے بھی اپنے کاغذات واپس لے لیئے اور ان کی پارٹی نے ن لیگ کے نامزدہ کردہ امیدوار شاہد خاقان عباسی کی حمایت کا اعلان کیا تھاجنہوں نے 221 ووٹ حاصل کیے۔اے این پی اور قومی وطن پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر رکھا تھا ۔جماعت اسلامی کی جانب سے صاحبزادہ طارق اللہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے جو صرف 4 ووٹ حاصل کر پائے۔

نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قومی اسمبلی میں پہلی تقریر:

وزیراعظم شاہد خاقان نے قومی اسمبلی کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کا مشکور ہوں جنہوں نے جمہوری عمل میں ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا میں عوام کے وزیراعظم کا میاں نواز شریف کا مشکور ہوں جنہوں نے اس قابل سمجھا۔ انہوں نے عمران خان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ آپ ہمیں روز گالم گلوچ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان سب سے بہتر گالی گلوچ کر سکتا ہوں لیکن ہمارے لیڈر کا حکم ہے کہ گالی کا جواب شائستگی سے دیا جائے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے نوید قمر کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اور نوید قمر امریکہ میں ایک ساتھ پڑھتے رہے ہیں یہ شائد اپوزیشن  لیڈر  کو کوئی دشمنی ہے کہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ میں مانتے ہوں کے نواز شریف قصور وار ہے اس نواز شریف کا قصور یہ کہ انہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا ۔انہوں نے اس ملک کی معیشت کو مضبوط کیا ۔ موٹرویز کا جال بچھا دیا اس ملک میں ۔ایل این جی سے اس ملک کی انڈسٹری کو  مضبوط کیا۔مشرف دور میں پوری دنیا پاکستان کیساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار تھے لیکن ایک بھی منصوبہ نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اس کرسی پر بیٹھنے کا پریشر جانتا ہوں .میں 45 دن کیلئے وزیراعظم بنا ہوں لیکن میں کام 45 مہینوں والا کام کروں ۔ میں اس کرسی کو گرم رکھنے کیلئے نہیں آیا بلکہ کام کرنے کیلئے آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو بہتر بنانے کیلئے سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں پہلے بھی کیے ہیں اور اب بھی مشکل فیصلے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ معیشت بہتر کرنے کیلئے ٹیکس ادا کرنے ہوں گے اور اس کا آغاز پارلیمنٹ سے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کو منافع بخش کاروبار بنانا ہے ۔زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کو مضبوط بنائیں گے۔

انہوں نے سکیورٹی ے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلحہ کے تمام لائسنس منسوخ کر کے اسلحہ واپس لیں گے۔کوشش کریں گے کسی عام شہری کے پاس اسلحہ نہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم نصاب میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں قومی نصاب کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے میدان میں بھی بہتری لائیں گے اس کیلئے صوبے چاہے ساتھ دیں یا نہ دیں۔جدید ریولے کا نظام دیں گے۔

انہوں نے کراچی کے مسائل حل کرنے کا بھی وعدہ دیا انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کے مسائل ٹھیک نہ ہوئے تو ملک کے مسائل ٹھیک نہیں ہو نگے۔یہ دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن قائم کیا ہے اب وہاں پر ترقیاتی کام بھی کرنے ہیں۔انہوں نے ایم کیو ایم ،جے یو آئی (ف) ،مسلم لیگ (ضیاء ) اور اپنے سارے حلیفوں کا شکریہ ادا کیا اور آخر میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف  اس ملک کے حقیقی وزیراعظم ہیں ایک دن ضرور اس سیٹ پہ ہونگے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی نہیں ۔ اس لیے ان کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے تک شاہد خاقان عباسی کو عارضی طور پر وزارت عظمیٰ سونپی گئی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں