عائشہ گلالئی نے بھی پھٹیچر تبدیلی سے منہ پھیر لیا

عائشہ گلالئی نے بھی پھٹیچر تبدیلی سے منہ پھیر لیا

ناز بلوچ کے بعد تحریک انصاف کی ایک اور خاتون رہنما، رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے بھی عمران خان کی پھٹیچر اور نام نہاد تبدیلی سے منہ پھیر لیا ہے۔ عائشہ گلالئی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں عام کارکنان بالخصوص خواتین کارکنان کی کوئی عزت نہیں۔ دو ہفتے قبل ناز بلوچ نے تحریک انصاف کو خیرباد کہہ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی الزامات لگائے تھے کہ پی ٹی آئی میں کارکنوں خصوصاً خواتین کی کوئی عزت نہیں انہیں دھکے دیئے جاتے ہیں۔ یوتھ اور خواتین کو پارٹی عہدوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ناز بلوچ اور عائشہ گلالئی دونوں کا کہنا یہی ہے کہ تحریک انصاف میں خواتین کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔


عائشہ گلالئی کے الزامات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں، انہوں نے یہ انکشاف کیا ہےکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک انتہائی کرپٹ ہیں۔ عائشہ گلالئی کے مطابق انہوں نے کئی مرتبہ عمران خان کو پرویز خٹک کی کرپشن سے آگاہ کیا مگر وہ خاموش رہے۔ عائشہ گلالئی نے عمران خان کو بھی خوب آڑے ہاتھوں لیا اور عمران خان کا حقیقی چہرہ بےنقاب کیا۔ خیر اب عائشہ گلالئی کو پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے گالیوں اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے الزامات کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ یہ تحریک انصاف کی روایت ہے۔

جو صحافی تحریک انصاف پر تنقید کردے اس کو غدار قرار دے کر لفافہ صحافی کا لقب دے دیا جاتا ہے اور اگر کوئی سوشل میڈیا پر تحریک انصاف یا عمران خان کے خلاف کچھ لکھ دے تو اسے یوتھیوں کی جانب سے گالیوں اور بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی تحریک انصاف چھوڑ دے تو چند ہی لمحوں میں پی ٹی آئی والے ایسے آنکھیں پھیرتے ہیں جیسے کبھی جانتے ہی نا ہوں اور پھر وہی الزامات اور گالیوں کی بارش۔

پی ٹی آئی میں ایک عام کارکن کی کتنی عزت ہے اس بات کا اندازہ نعیم الحق کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جب ناز بلوچ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کے بعد انہوں نے کہا کہ ہمیں ناز بلوچ کے جانے سے فرق نہیں پڑتا وہ ایک عام کارکن تھیں۔ عمران خان خواتین کا کتنا احترام کرتے ہیں یہ بھی قوم جانتی ہے۔ خان صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ابرار الحق کے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا "اچھا ہوا ناز بلوچ پارٹی چھوڑ کر چلی گئی، وہ کسی کام کی نہیں۔

" یہ ہے عمران خان کی نظر میں ان خواتین رہنماؤں کی عزت جو اس امید پر خان کے ساتھ ہیں کہ نیا پاکستان بنے گا، ملک میں تبدیلی آئے گی، خواتین کو حقوق ملیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ناز بلوچ تو پی ٹی آئی کی مرکزی نائب صدر تھیں جب ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو کسی یونین کونسل یا وارڈ کی سطح کی کسی خاتون کی خان کے نزدیک کیا عزت ہوگی؟

دوسروں پر الزام تراشیاں کرنے والے عمران خان پر ایک طرف غیر ملکی فنڈنگ کا کیس چل رہا ہے تو دوسری طرف عمران خان کے سر پر بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے کیونکہ عمران خان پر بھی وہی الزامات ہیں جو نوازشریف پر تھے۔ عمران خان نااہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہورہی ہے اور اگر یہ ثابت ہوگیا کہ عمران خان نے بھی اثاثے چھپائے ہیں تو وہ بھی صادق اور امین نہیں رہیں گے۔ عمران خان نااہل ہوں گے یا نہیں یہ فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کرنا ہے مگر عوام کی نظر میں تو عمران خان پہلے ہی نااہل ہو چکے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان جنہوں نے 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو شہید کرنے اور پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی عمران خان نے ان ظالموں کو خیبر پختونخواہ میں دفاتر کھولنے کی پیشکش کی۔ کیا ان 80 ہزار شہداء کے لواحقین کبھی خان صاحب کو معاف کریں گے؟

عمران خان دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ کبھی جھانک کر دیکھیں تو شرم سے پانی پانی ہوجائیں کیونکہ ان کا کردار انتہائی بدبودار ہے۔

عمران خان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو کرپٹ کہتے رہے اور اب نظر محمد گوندل، فردوس عاشق اعوان، نور عالم خان، صمصام بخاری، اشرف سوہنا سمیت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی افراد ان کے دائیں بائیں کھڑے نظر آتے ہیں جو شاید خان صاحب کی تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خان صاحب کو یا تو یہ ماننا ہوگا کہ وہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو کرپٹ کہہ کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہے یا پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اب وہ کرپٹ لوگوں کے ساتھ مل کر تبدیلی لانا چاہتے ہیں، خیر جو بھی ہو خان صاحب دونوں ہی صورتوں میں غلط ثابت ہوتے ہیں۔

ہاں یاد آیا آج کل سوشل میڈیا پر اس بات کا بھی چرچا عام ہے کہ ’’کل تک یوٹرن کے بادشاہ عمران خان کہتے تھے کہ میں شیخ رشید کو اپنا چپراسی بھی نا رکھوں اور آج شیخ رشید عمران خان کے سب سے قریبی سیاسی رفیق ہیں یہاں تک کے عمران خان نے شیخ رشید کو پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کردیا اور عائشہ گلالئی کی تحریک انصاف چھوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔‘‘

خان صاحب یوٹرن لینے کے ماہر ہیں مگر اب ان کی گاڑی ایسے ٹریک پر ہے کہ یوٹرن کی کوئی گنجائش نہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنان کو شیخ رشید کی شکل میں بھیانک تبدیلی مبارک ہو۔

عمیر سولنگی فری لانس صحافی، بلاگر ہیں،سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتے ہیں

انہیں ٹوئیٹر پر فالو کیا جاسکتا ہے UmairSolangiPK