معاشی بدحالی اپنے عروج پر

معاشی بدحالی اپنے عروج پر

جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد یہ اُمید ہوئی تھی کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں تین ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام اپنے اختتام کو پہنچے گا اور سیاسی معاملات معمول پر آ جائیں گے لیکن فیصلے کے بعد حکومتی اتحاد کی طرف سے جس ردِعمل کا اظہار کیا گیا وہ ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے اس کی ایک جھلک گزشتہ دنوں مسلسل چار چار روپے اضافے کے بعد 245 روپے کی حد عبور کرنے اور سٹاک مارکیٹ میں بڑھتی مندی میں بھی نظر آئی ہے۔ حالیہ فیصلہ آئینِ پاکستان کا عکاس ہے اور وقتی مفادات کو فراموش کر کے اسے من و عن قبول کر نے ہی میں سب کی بہتری ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی بے چینی نے وطنِ عزیز کو نہ صرف دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے دھکیلا ہے بلکہ علاقائی ممالک بھی پاکستان سے معاشی لحاظ سے آگے نکل چکے ہیں۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ پڑوس میں بھارت اور بنگلہ دیش کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نے کبھی اپنے مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ جبکہ بنگلہ دیش نے وجود میں آتے ہی اپنے مسئلے کو پہچان لیا۔ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے سے پہلے مغربی پاکستان کی آبادی چار کروڑ تھی جبکہ بنگلہ دیش کی آبادی چھ کر وڑ تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی اٹھارہ کروڑ جبکہ ہماری آبادی بائیس کروڑ کا ہندسہ پھلانگنے کو ہے۔ آبادی میں یہ اضافہ جہاں غربت اور بیروزگاری بڑھا رہا ہے، وہیں ہماری زراعت کے لیے سنگین مسائل پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ ہماری زرخیز زرعی زمین رہائشی آبادیوں کی نذر ہو رہی ہے۔ ہم ہیں کہ طبقوں میں بٹی ہوئی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایک بات کہتا ہوں کہ موجودہ حالات تمام طبقات کیلئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں۔ ایسے وقت میں جب بڑھتے ہوئے افراطِ زر پھیلتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزل کا بحران درپیش ہے سیاسی ہلچل کے اثرات ملکی اقتصادیات پر شدید منفی صورت میں مرتب ہو رہے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس نوعیت کے فیصلے سیاسی لحاظ سے کوئی بڑا طوفان لائے بغیر گزر جاتے ہیں وہاں نہ تو کارِ سرکار جمود کا شکار ہوتے ہیں نہ عوام کی بہبود کے کام متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتیں کوئی واویلا کرتی ہیں۔ وطنِ عزیز میں چونکہ جمہوری اقدار تاحال نارسیدہ ہیں اس لیے 

یہاں جب بات اقتدار اور طولِ اقتدار کی ہو تو جمہوری رویوں کا مظاہرہ شاذ ہی نظر آتا ہے۔ یہی غیر جمہوری رویے ملک کو معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کا وسیلہ بھی بنتے ہیں۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ملکی معیشت جس بدحالی کا شکار ہے وہ محتاجِ وضاحت نہیں۔ اگرچہ معیشت پہلے بھی مستحکم بنیادوں پر استوار نہیں تھی؛ تاہم گزشتہ چار ماہ کے دوران اس پر جو بیتی یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ بلومبرگ جیسا مُسلّم تجزیاتی ادارہ پاکستانی معیشت کو دیوالیہ پن کے خطرات سے دوچار معیشتوں میں شمار کر رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے مشکل فیصلوں سے عوام مہنگائی کے جس عفریت کا شکار ہو چکے ہیں اُس سے بچاؤ کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔ ہر ہفتے آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی نئی قسط کی فراہمی کا مژدہ سنایا جاتا ہے مگر ہنوز وہ نارسا ہے۔ روز افزوں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی بڑھتی قیمتیں صنعتوں کے ساتھ ساتھ برآمدات کے لیے بھی تازیانہ ثابت ہوئی ہیں۔ ہر ڈوبتا دن معاشی حالات کی سنگینی میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اپنائیں۔ دنیا ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے کہ کسی ملک نے سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ملکی معیشت کو استحکام دیا ہو یا اس کی سمت درست کی ہو۔ ملک و قوم کی سلامتی اور بہبود کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو وقتی مفادات پس پشت ڈال کر گرینڈ سیاسی ڈائیلاگ کی طرف بڑھنا ہو گا۔ میثاقِ جمہوریت کی طرز پر ایک نیا میثاق ہی سیاسی پارے کو نیچے لانے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی درست موقع ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی معاشی سمت کا تعین کرنا چاہیے مگر یہ کام کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں جب تک تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے اجتماعی ذہنیت نہیں رکھیں گے تب تک معاشی بھنور سے نکلنے کا خیال بھی محال ہے۔ ضروری ہے کہ ذاتی انا اور سیاسی مفاد کو تیاگ کر تمام سیاسی جماعتیں گرینڈ ڈائیلاگ کی طرف بڑھیں۔ جب تمام فریق ایک دوسرے کے وجود اور جمہوری حقوق کو برداشت کرنے پر آمادہ ہوں گے تبھی سیاسی عدم استحکام سے نکلنے کا راستہ سجھائی دے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے پر قابو پا لیا جائے گا۔ معیشت بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی اور روپے پر دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔ وزیر خزانہ کا یہ بیان بظاہر خوش آئند ہے کہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ غریب عوام کی کمر توڑ چکا ہے لیکن ڈالر کی قدر میں روز افزوں اضافے اور مہنگائی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسا کیونکر ممکن ہو سکے گا۔ لوگوں کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے لیکن حکومت تاحال صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آتی نہ ہی اس حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ قرضوں پر چلنے والی معیشت پر دباؤ کم کرنے میں برآمدات اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن موجودہ حکومت فی الحال اپنی توجہ برآمدات بڑھانے کے بجائے آئی ایم ایف سے قرض کے حصول پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ برآمدات میں اضافے کی باتیں زبانی جمع خرچ تو ہو سکتی ہیں لیکن عملاً ایسا کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔ ملک میں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری بھی عروج پر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی تشکیل دے۔ درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کا حجم بڑھائے۔ لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرے۔ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے مصنوعی مہنگائی پر قابو پائے۔ عوام کی قوتِ خرید بڑھائے بغیر قیمتوں میں کمی کے اعلانات محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں