قومی اسمبلی نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی۔

قومی اسمبلی نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد:گزشتہ روز  قومی اسمبلی نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کے باوجود انکم ٹیکس کے قانون میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ’یہ بل اسٹیٹ ایجنٹس، بلڈرز اینڈ ڈویلپرز یہاں تک کہ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو منظور ہے۔‘


یہ ترمیم ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے بنیادی ریٹس (ڈی سی ریٹس)، جن کے مطابق اکثر رجسٹریاں جمع کرائی جاتی ہیں، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جائیداد کی قیمت کا تعین کرنے کے لیے ایویلیوایشن کے درمیان فرق ختم کرے گی۔قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بل کے مطابق جائیداد کی قیمت کا تعین کرنے کا فارمولا ’اے مائنس بی‘ (A-B) ہوگا، جس میں A ایف بی آر کی جانب سے غیر منقولہ جائیداد قیمت ہے، جبکہ B رجسٹر یا ٹرانسفر کی تصدیق کرنے والی اتھارٹی، جو کہ ڈپٹی کمشنر کا دفتر ہے، کی جانب سے جائیداد کی ریکارڈ کی گئی قیمت ہے۔تاہم یہ فارمولا صرف اس وقت لاگو ہوگا جب A کی قیمت زیادہ ہوگی۔

جائیداد کے خریدار کو A اور B کے درمیان فرق کے بعد بچنے والی قیمت پر 3 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور ایف بی آر خریدار سے اس کا ذریعہ آمدنی نہیں پوچھے گا۔

اجلاس کے دوران قیصر احمد شیخ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنا ذریعہ آمدنی ظاہر کرنے سے پریشان ہونے والے افراد، قیمت کے فرق کا 3 فیصد بطور ٹیکس ادا کرکے اس سوال سے مستثنیٰ ہوجائیں گے اور جب خریدار فائلر ہوجائے گا تو اس سے حکومت کو بھی فائدہ ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کے اس اقدام سے ایف بی آر خوش ہے کیونکہ اب اسے اُس سیکٹر سے 3 فیصد ٹیکس حاصل ہوگا جو پہلے کوئی ٹیکس نہیں دیتا تھا۔‘