ٹرمپ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر کردار ادا کریں خوشی ہوگی:پاکستان

ٹرمپ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر کردار ادا کریں خوشی ہوگی:پاکستان

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان  نفیس زکریا نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا  ڈونلڈ ٹرمپ کو فون جذبہ خیر سگالی کے تحت تھا۔ نومنتخب امریکی صدر کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنے کی بات خوش آئند ہے۔


 ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان اہم نوعیت کے تعلقات ہیں اور ہم امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور ان میں اضافہ کے بھی خواہشمند ہیں۔

نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت جاری رکھے ہوئے ہے لہذا عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینا چاییے۔  مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کی جدوجہد 5 ویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنیوا میں ہائی کمشنر اور او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں غیر جانبدارانہ کمیشن بھیجنے کی سفارش کی ہے جب کہ او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ کے وفد سے سیاسی مذاکرات کا دور ہوا جس میں سوئس وفد کو کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے جو ممکن ہوا کرے گا کیونکہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات رکھنا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان کا یہی نکتہ ہے کہ کشمیر کے معاملے پر بات چیت کی جائے لہذا  پاکستان بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا معاملہ اٹھائیں اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان نے خصوصی ایلچی بھی بھیجے ہیں۔

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کا عمل کیو سی جی سے مختلف ہے اس کا مخصوص ایجنڈا ہوتا ہے اور جو نکات گزشتہ کانفرنس میں زیر غور آئے تھے ان پر ہی مزید بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر عرب دنیا کے ساتھ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کیے۔