گڈانی شپ بریکنگ کی صنعت سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ

گڈانی شپ بریکنگ کی صنعت سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ

کراچی:  پاکستان شپ بریکرز ایسوسی ایشن (پی ایس بی اے) نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ یکم نومبر 2016 کو گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں آتش زدگی کے افسوسناک سانحے کے نتیجے میں پاکستان کی شپ بریکنگ صنعت کو درپیش بحران پر وہ خود براہِ راست توجہ دیں ۔


ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس بی اے نے کہا کہ دھماکے کے ذمہ دار وں پر مُلکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور پوری شپ بریکنگ صنعت کو متاثر نہ کیا جائے۔پریس کانفرنس میں پی ایس بی اے نے وزیر اعظم پاکستان ، میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری سے درخواست کی کی وہ مذکورہ صنعت کی بحالی کے لئے صنعت سے متعلقہ مسائل اور معاملات کو ذاتی دلچسپی سے دیکھیں۔

پریس کانفرنس میںاس بات پر زور دیا گیا کہ شپ بریکنگ انڈسٹری کی سرگرمیاں بند ہونے سے نہ صرف یہ کہ ملکی اقتصادیات کو بھاری نقصان کا سامنا ہورہا ہے بلکہ محنت کش مزدوروں کا روزگار بھی بند ہوگیا ہے۔حکومت نے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیق کے لئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کے علاوہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے علاقے پر سیکشن 144 کا اطلاق کر دیا ہے جس سے وہاں شپ بریکنگ کی تمام سرگرمیوں پر بندش عائد ہوگئی ہے،شپ بریکنگ صنعت تقریبًا12 ارب روپے سالانہ ٹیکس جمع کراتی ہے اورمذکورہ بندش سے وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت دونوں کو خطیر خسارہ ہورہا ہے۔

شپ بریکنگ صنعت کو بند کردینے سے ہزاروں افراد بے روز گار ہوگئے ہیں اور ری رولنگ اور متعلقہ صنعتوں کو اسٹیل کی فراہمی رُک گئی ہے ،صنعت کے بند ہونے سے اب تک تقریباً 1 لاکھ ٹن اسٹیل مٹیریل کا نقصان ہوچکا ہے، وہ تمام جہاز جو تمام حکومتی محصولات کی ادائیگی کے بعد اور حکومت پاکستان کے قوانین کے تحت گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر آتے ہیں ، وہ صنعت کی اس بندش سے جمود کی حالت میں ہیں۔پی ایس بی اے نے زور دیا کہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں.

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو، شپ بریکنگ صنعت پر بندش اور کنسٹرکشن صنعت کو اسٹیل کی عدم فراہمی سے سی پیک کے آئندہ منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔پریس کانفرنس میں ایف پی سی سی آئی، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے علاوہ ری رولنگ ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور پی ایس بی اے سے اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

نیوویب ڈیسک< News Source