آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن

Today is World AIDS Day
یوم ایڈز ہر سال یکم دسمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے: فائل فوٹو

لاہور: آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں متعدی مرض ایڈز سے بچاؤ اور اس کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کیلئے عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ایڈز ایک ایسی متعدی بیماری ہے جس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔

یہ دن ہر سال یکم دسمبر کو اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز سب سے پہلے 1987ء میں کیا گیا تھا۔ یہ دن منانے کا مقصد عوام کو اس موذی مرض سے بچاؤ سے آگاہ کرنا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں صفائی کے ناقص انتظامات اور صحت عامہ کی سہولیات میں کمی کی وجہ سے ایڈز کا مرض پاکستان میں بھی خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس وقت صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے پسماندہ علاقے اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ ان مریضوں میں سے بڑی تعداد کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ انھیں یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔

ایڈز کے مرض کے بارے میں بات کی جائے تو یہ ایسا خطرناک ہے کہ اس میں مبتلا مریض کے جسم کا مدافعتی نظام اتنا کمزور کر دیتا ہے کہ معمولی سے جراثیموں اور وائرس بھی اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔

سائنس میں ترقی کرنے کے باوجود جدید دنیا کے طبی ماہرین اور تحقیق دان ابھی تک اس بیماری کا توڑ کرنے میں ناکام ہیں۔ اس بیماری کے پیدا ہونے سے اب تک صرف ایک شخص ہی اس سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو سکا تھا، تاہم اس بارے میں بھی شک وشبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ایڈز اور ایچ آئی وی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایڈز ایک بیماری ہے جبکہ ایچ آئی وی وائرس ہے۔ سب سے پہلے ایچ آئی وی وائرس ہی انسان کے اندر منتقل ہو کر مدافعتی نظام کو کمزور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایڈز کی علامات فوری طور پر کسی مریض میں ظاہر نہیں ہوتیں، اس میں سالوں کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

اس متعدی مرض سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ غیر محفوظ طریقے سے خون کی منتقلی، سرنج کے استعمال اور جنسی تعلقات سے بچا جائے۔ یہ بھی خیال رہے کہ ایڈز کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ آپس میں ہاتھ ملانے، گلے ملنے اور کھانے پینے سے یہ مرض دوسروں میں منتقل نہیں ہوتا۔