ن لیگ میں بیانیئے پر اختلاف ہے، تجزیہ کار

ن لیگ میں بیانیئے پر اختلاف ہے، تجزیہ کار
فائل فوٹو

 لاہور،تجزیہ کار سلمان عابد نے کہا ہے کہ شہباز شریف سٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں لیکن ووٹ پاور نوازشریف کے پاس ہے۔ وہ پروگرام سیدھی بات میں میزبان بینش سلیم سے گفتگو کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں تقسیم  پہلے سے موجود ہے لیکن ووٹ بینک نوازشریف کا ہے اس لئے شہبازشریف مفاہمت پر چل رہے ہیں ۔ بلاول بھٹو نے خود کہا تھا کہ پی ڈی ایم کے بیانئے میں اداروں کا نام نہیں لیا جائے گا ۔ خواجہ سعدرفیق جب سے باہر آئے ہیں وہ خاموش ہوکر بیٹھ گئے ہیں ۔ن لیگ کے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اداروں سے ٹکرانے کی پالیسی پر متفق نہیں ہیں ۔ آصف زرداری نے حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ کس وقت بلاول کو نکالنا ہے یا آصفہ بھٹو کو ۔ آصفہ بھٹو کی انٹری ٹھیک وقت پر ہوئی ہے ان کی تقریر بھی اچھی تھی لیکن فی الحال لیڈ بلاول ہی کریں گے ۔

پروگرام میں موجود تجزیہ کار سجاد میر نے کہا ہے کہ جب بلاول بھٹو نے سیاست میں قدم رکھا تھا اس وقت لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے لیکن آج وہ ایک سمجھدار سیاستدان کے طورپر جواب دیتا ہےا ور اس نے سیکھا بھی بہت کچھ ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری اس وقت میچور سیاستدان بن چکے ہیں ۔اس ملک میں آئین سے ہٹ کر کام کرنے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ 

تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ  آصف زرداری سیاست میں اب کافی پیچھے چلے گئے ہیں اور بلاول بھٹو نے خود کو کافی حد تک تیار کرلیا ہے ۔ آصفہ بھٹو اپنی بڑی بہن سے زیادہ سیاسی بصیرت رکھتی ہیں ۔ بلاول بھٹو کی پہلی تقریر سے آصفہ کی تقریر زیادہ میچور تھی ۔ آصفہ سیاست میں اچھی انٹری ہے لیکن وہ اپنے بھائی کے بعد دوسری پوزیشن پر ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست میں خواتین جتنی زیادہ ہوں گی  اتنا ہی سیاست کے لئے بہتر ہوگا ۔ ن لیگ ہو یا پیپلزپارٹی پاکستان میں سیاست پاپولر شخصیات کے گرد ہی گھومتی ہے ۔ ن لیگ میں مریم کے لئے لوگ نکلتے ہیں شہبازشریف کے لئے نہیں ۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار کی ملاقات ہوئی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں کہ وہ فوری واپس آجائیں ۔ ن لیگ میں اس وقت مریم اور نوازشریف ایک پیج پر ہیں باقی سب لوگ ان کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ حکومت لاہور کے جلسے میں اگر ملتان والا گھامڑ پن کرے گی تو پھر اس کو جانا پڑے گا ۔