انسانی معراج کا بہتر نمونہ

انسانی معراج کا بہتر نمونہ

زمانہ طالب علمی میں کہانی نما سبق ابو بن ادھم پڑھا تھا، اس میں بتایا گیا کہ ایک رات ابو بن ادم کے خواب میں ایک فرشتہ آیا،  انھوں نے دیکھا کہ وہ کچھ لکھ رہا ہے، پوچھا کیا لکھ رہے ہو، اس نے جواب دیا کہ ان لوگوں کے نام لکھ رہا ہو جو اللہ سے عشق کرتے ہیں، ادھم نے پوچھا کہ اس فہرست میں ان کا نام ہے، فرشتہ نے جواب دیا کہ ان کا نام نہیں ہے، ابو بن ادھم نے فرشتہ سے کہا کہ میرا نام اس فہرست میں لکھیں جوانسانوں سے محبت کرتے ا ور اسکی وساطت سے اللہ تعالی سے عشق کرتے ہیں، فرشتہ نے اچھا کہااور رخصت ہو گیا، کچھ مدت کے بعد ابو بن ادھم نے پھر خواب میں دیکھاکہ فرشتہ آج بھی کچھ لکھ رہا ہے، انھوں نے سوال کیا کہ کیا لکھ رہے ہو فرشتہ نے کہا کہ ان لوگوں کے نام لکھ رہا ہوں کہ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتے ہیں، انھوں نے پھر سوال کیا کہ ان افراد میں میرا بھی نام شامل ہے، فرشتہ نے جب فہرست دکھائی تو اس صفحہ پر ابو بن ادھم کا نام انسانیت سے محبت کرنے پر پہلے نمبر پر رقم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو میرے بندوں سے محبت کرتے ہیں، میں ان سے پیار کرتا ہوں۔ خواجہ میر دردکا شعر اسکی ترجمانی یوں کرتا ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کم نہ تھے کروبیاں

کہا جاتا ہے کہ اپنی تکلیف تو جانور بھی محسوس کرتے ہیں ، انسان کو اشرف المخلوقات اس لئے بنایا کہ وہ دوسروں کے درد کو بھی ویسا ہی محسوس کرے جس طرح یہ اس کی اپنی تکلیف ہو،دوسروں کے درد کو محسوس کرنے والے ہی دراصل انسانیت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہیں۔

 یہ درس اس وقت ملا جب اسلامی تاریخ میں کسمپرسی کی حالت میں ہجرت کرنے والے نو مسلم نے مدینہ کا رخت سفر باندھا تو انصار نے اپنی جائیدادوں اور خانگی میں شریک کر کے وہ درخشاں مثال قائم کی جو آج بھی ایک معتبر حوالہ ہے، اس کو ہی مثال بنا کر مسلم معاشروں میں بے بس افراد کی خدمت کر نے میں راحت محسوس کی جاتی ہے۔

قدرتی آفات کا آنا ایک فطری عمل ہے ،لیکن اس سے باوقار طریقہ سے نبردآزما ہونا ہی زندہ اقوام کا شعار ہے، ایسے مواقع پر اجتماعی اور انفرادی طور پر متاثرین کے دکھوں کا مداوا کیا جاتا ہے، ہماری قوم اس اعتبار سے اچھا ٹریک ریکارڈ رکھتی ہے کہ جب بھی کوئی ناگہانی آفت سے سابقہ پڑا ،تو ہر پیروجواں 

نے مل کر اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنی صلاحیتوں کے مطابق حصہ ڈالا، البتہ حکومتوں کا معاملہ یکسر دوسرا ہے، ان پر کون کتنا اعتبار کرتا ہے، اس کا تعلق انکی اخلاقی اور سیاسی ساخت پر ہے، تاہم بعض این جی اوز اتنی اچھی شہرت رکھتی ہیں کہ عوام کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ادارے بھی ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں، کسی بھی ناگہانی صورت میں بھاری بھر فنڈاوراشیا ان کے حوالہ کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ارض وطن میں ایک نام ا لخدمت فائونڈیشن پاکستان کا بھی ہے۔

حالیہ سیلاب کی مصیبت میں مذکورہ فائونڈیشن کا بڑا فعال کردار رہا ہے، یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے، اس وقت بھی جنوبی پنجاب ا ور سندھ میں متاثرین سیلاب کھلے آسمان کے نیچے بے یارومدد گار اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجوو ہیں، موسم نے بھی کروٹ لی ہے،اس کی شدت نے انکی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، مگر قومی سطح پر باز گشت اب سنائی نہیں دیتی ہے، میڈیا بھی واجبی انداز میں ان متاثرین کا تذکرہ کر رہا ہے، کچھ مقامات پر تاحال کھڑاپانی انتظامیہ کے لئے خود ایک سوال ہے۔

الخدمت فائونڈیشن پاکستان نے جس جذبہ سے روز اول سے متاثرین سیلاب کی خدمت کا بیڑا اٹھایا تھا اسکی انتظامیہ اب بھی پوری طرح گامزن ہے۔

 موسم سرما کی آمد کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے علاقہ جات میں انکے لئے سوا سو سے زائد نئے مکانات تعمیر کئے گئے ہیں، ڈی جی خان کے تعمیراتی و بحالی منصوبہ کے پر اجیکٹ انچارج شیخ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے بتایا ہے، کہ الخدمت فائونڈیشن پاکستان نے متاثرہ خاندانوں میں انکی چابیاں بھی محترم امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے دست شفقت سے تقسیم کرائی ہیں، تاہم بحالی کا عمل بھی جاری رہے گا، یہ خطہ چونکہ زراعت سے وابستہ ہے اس لئے کھاد، زرعی ادویات، بیج بھی کسانوں کو بلا معاوضہ دیا گیا ہے،بے روزگار نوجوانوں کو انکے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے انھیں بکریاں دی گئیں ہیں۔پکا ہوا کھانا، گھریلو سامان اس کے علاوہ ہے، کروڑوں روپے اس منصوبہ پر خرچ  کئے گئے ہیں، یہ پیسہ سماج کے مخیر حضرات کا تھا، اس میں بڑا حصہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی معاونت کا ہے۔

جنوبی پنجاب کے یہ دونوں اضلاع ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے، سیلاب نے وہاں کے لوگوں سے گھر کی چھت چھین لی تھی، الخدمت فائونڈیشن نے مکانات کی تعمیر کی صورت میں چھت فراہم کرکے انسانی خدمت کا اہم فریضہ انجام دیا ہے، انسانی تاریخ میں ہمیشہ وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو بلا امتیاز رنگ ونسل، مذہب اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔الخدمت فائونڈیشن کے ذمہ داران کا تذکرہ بھی حکیم سعید شہید، مدر ٹریسا،مادام رتھ فائو کے ساتھ ہی ہوگا، جنہوں انسانی خدمت کی لازوال داستانیں چھوڑی ہیں، بجا طور اکیلے یہ خدمت انجام نہ دے سکتے اگر سماج ان کا ساتھ نہ دیتا،دولت مند افراد کی دنیا میں کوئی کمی نہیں مگر انسانیت کا درد چند ہی رکھتے ہیں، زیادہ ذمہ داری تو ان کے کاندھوں پر آتی ہے جن کے حوالہ دولت کی جاتی ہے۔جو لوگوں کو مسائل سے نکالنے کا فریضہ ایمانداری سے ادا کرتے اور تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔

حال ہی میں دنیا کے امیر فرد بل گیٹس نے دولت عوام کے لئے عطیہ اور اپنی فائونڈیشن کے حوالہ کرتے ہو ئے کہا کہ وہ اپنے وسائل معاشرے کو لوٹانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔تاکہ یہ دولت وبائی امراض کی روک تھام ،مساوات کے حصول،تعلیم کی سہولت، خوراک کے انتظام پر خرچ ہو سکے، اس طرح وہ دولت مند افراد کی فہرست سے نکلنا چاہتے ہیں۔دنیا کے پسماندہ افراد کو مشکلا ت سے نکالنے کے لئے یہ جذبہ درکار ہے۔

ابو بن ادھم کی کہانی ہر اس فرد ،ادارہ کے لئے مشعل راہ ہے جو انسانی خدمت کواپنا اولین شعار مانتا ہے  اس کی وساطت سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے،، انسانی تاریخ میں سخاوت کرنے اور دولت پر گھمنڈ کرنے کے ماڈل موجود ہیں، اسلامی تاریخ میں حضرت عثمانؓ سے بڑھ کر کوئی غنی نہیں جنہوں نے اپنی دولت انسانی خدمت پر نچھاور کی اورقارون سے بڑا بخیل کوئی نہیں جسکی دولت اس کے کچھ کام نہ آئی،خوش قسمت لوگ وہ ہیں جو قدرتی آفت کو اپنی دولت کے لئے آزمائش سمجھتے ہیں اور متاثر خاندانوں کے لئے عافیت کا سامان پیدا کرتے ہیں، ڈیرہ غازی خاں کی جماعت اسلامی کی خدمت کا شہرہ تو اُس وقت سے ہے جب درویش صفت انسان، ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نذیر شہید بے لوث خدمت کے لئے قریہ قریہ سائیکل پر گھوما اور لوگوں کا مفت علاج کرتے تھے ۔

الخدمت فائونڈیشن ڈیرہ غازی خاں کے شیخ عثمان ایڈووکیٹ نے منصوبہ بحالی برائے سیلاب متاثرین رواں سال کے آخر تک جاری رہنے کا عندیہ دیا ہے،اللہ تعالیٰ اس فائونڈیشن سے انسانی خدمت کا زیادہ سے زیادہ کام لے تاکہ متاثرین سیلاب کو موسم سرما کی شدت سے قبل مزید نئے گھرمیسر آسکیں، انکی یہ خدمت انسانی معراج کی عمدہ مثال ہے۔