عمران کی حکمت عملی کامیاب یا ناکام

عمران کی حکمت عملی کامیاب یا ناکام

ایک لڑکی کا کسی سے چکر چل رہا تھا لیکن گھر والوں کا ماننا مشکل تھا اس لئے لڑکا اور لڑکی دونوں نے فیصلہ کیا کہ گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کر لیتے ہیں ۔ جس دن لڑکی نے گھر سے بھاگنا تھا اس سے ایک دن  پہلے رات کو سوتے ہوئے اپنی ماں سے کہا کہ صبح ہمارے گھر سے ایک فرد کم ہو جانا ہے ۔ ماں نے پوچھا بیٹی وہ کیسے تو بیٹی نے گول مول سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماں دیکھ لینا جو کہا ہے وہی ہو گا ۔ صبح جب گھر والے اٹھے تو لڑکی غائب تھی ۔ شور مچ گیا اور کچھ ہی دیر میں پتا چل گیا کہ لڑکی گھر سے بھاگ گئی ہے ۔ اب جو بھی اظہار افسوس کے لئے آتا  تو لڑکی کی ماں ان سے کہتی کہ جو بھی ہے کرماں والی بہت پہنچی ہوئی تھی اس نے رات کو ہی کہہ دیا تھا کہ اماں ہمارے گھر سے ایک فرد کم ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا ہے ۔جو حال لڑکی کی ماں کا تھا کچھ ایسا ہی حال میرے قائد انقلاب عمران خان کے فین کلب کا ہے ۔ ہر بندے کو اپنے اعمال کا بخوبی علم ہوتا ہے مثلاََ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے اور اس کے خلاف اسی جرم میں ایف آئی آر درج ہو تی ہے تو اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا ۔ خان صاحب کو اگر پتا نہ ہوتا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیا ہونا ہے تو وہ مسلسل آٹھ سال تک اسے لٹکانے رکھنے کے لئے التوا کی درخواستیں نہ نے دیتے رہتے تو خان صاحب کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نواز لیگ کا بندہ ہے مجھے معلوم ہے کہ فارن فنڈنگ کا کیا فیصلہ ہونا ہے ۔مجھے علم ہے کہ توشہ خانہ کا کیا فیصلہ ہونا ہے ۔ مجھے علم ہے کہ آنے والے دنوں میں میرے خلاف نازیبا وڈیو سامنے لائی جائی گی ۔ مجھے پتا ہے کہ کچھ آڈیوز آنے والی ہیں ۔ خان صاحب جب آنے والے دنوں کی خبریں بتارہے ہوتے ہیں تو ان کا فین کلب خوشی سے سرشار جھوم اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نہ کہتے تھے خان صاحب بڑی پہنچی ہوئی ہستی ہے انھیں آنے والے دنوں کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ اب آٹھ ماہ تک جلسہ جلسہ اور پھر لانگ مارچ کے بعد خان صاحب جو مخالفین کی حکومت گرانے آئے تھے اپنی ہی حکومتوں کے خاتمہ کی خبر پر اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔

 مبصرین کی ایک واضح اکثریت کے نزدیک عمران خان کا لانگ مارچ جس دن لاہور سے چلا تھا اسی دن سے ناکام تھا اور راولپنڈی میں جلسے تک ناکام شو رہا ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں سندھ اور اسلام آباد کے چھوٹے سے شہر کو چھوڑ کر ہر جگہ تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں کسی بھی قسم کا کوئی لاٹھی چارج گولی آنسو گیس یا پکڑ دھکڑ کا خطرہ نہیں بلکہ اس کے بر عکس ہر جگہ پولیس انھیں تحفظ دے رہی تھی اور باقاعدہ معاونت کر رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ایک بڑے مجمع کا جمع نہ ہونا ناکامی کے سوا اسے اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔جیسا 

کہ عرض کیا کہ مبصرین کی ایک واضح اکثریت کے نزدیک لانگ مارچ اور پنڈی کا جلسہ بھی ناکام تھا بلکہ جن مقاصد کے لئے خان صاحب نے یہ سب کچھ کیا تھا ان کے حصول میں بھی خان صاحب مکمل ناکام رہے ہیں یعنی جلد انتخابات کی تاریخ ، ان کی مشاورت سے نئے آرمی چیف کا تقرر اور اپنے اوپر درج مقدمات سے چھٹکارہ ۔ہمیں ان مبصرین کی رائے سے بڑی حد تک اتفاق ہے لیکن یہ تو وہ مقاصد تھے جو بظاہر نظر آ رہے تھے اور کوئی شک نہیں کہ انھیں حاصل نہیں کیا جا سکا لیکن ان سب سے کہیں زیادہ اہم جو مقصد تھا اس میں تو خان صاحب بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں اور وہ مقصد یہی تھا کہ ملک میں انتشار کی فضا بنی رہی تاکہ ملک کی معیشت میں کسی طور بہتری نہ آئے ۔اس لئے کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب موجودہ حکومت بر سر اقتدار آئی تو پوری تحریک انصاف اس پروپیگنڈا میں مصروف تھی کہ اس حکومت کی بین الاقوامی سطح پر کوئی اخلاقی ساکھ نہیں ہے ۔جب سیلاب آیا تو تحریک انصاف کی حکومتوں کے علاوہ جو حکومتیں تھیں وہ سب سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے ہر جتن کر رہی تھیں لیکن سفاکیت کی انتہا کو پہنچ کر تحریک انصاف کی قیادت اس بات کا پرچار کر رہی تھی کہ یہ تو چور ہیں ان پر کوئی بھروسہ ہی نہیں کرتا لہٰذا انھیں کوئی امداد نہیں دے گا اور جب آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے پر بات ہو رہی تھی تو شوکت ترین کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ کو کی گئی کال سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا ۔ خان صاحب اپنی سیاسی حکمت عملی سے ملک میں مسلسل سیاسی بے یقینی کی کیفیت سے معیشت کو اب تک ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ 26 نومبر کو ایک بڑا سر پرائز دیں گے تو انھوں نے اسمبلیوں سے باہر آنے کا کہہ کر سرپرائز دے دیا ہے ۔ ہم اکثر اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ خان صاحب کے پاس اگر کوئی آئینی اختیار ہوتا ہے تو وہ اسے اپنے مقاصد کے لئے انتہائی منفی انداز میں استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اب بھی انھوں نے یہی کیا ہے ۔ 2018کے انتخابات کو کسی نے بھی صاف اور شفاف الیکشن تسلیم نہیں کیا تھا اور سندھ اسمبلی تو تحلیل کی جا سکتی تھی جبکہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی سے بھی نصف کے قریب ارکان مستعفی ہو کر ملک میں افراتفری کی فضا بنا سکتے تھے لیکن کسی نے بھی اس حکمت عملی کے متعلق نہ سوچا اور نہ ہی اس کا اظہار کیا ۔ مولانا فضل ارحمن نے شروع میں اس پر بات کی لیکن نواز لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سختی سے اس آپشن کو رد کر دیا جس کے بعد مولانا کو بھی اس سے پیچھے ہٹنا پڑا ۔خان صاحب نے اسمبلیوں سے باہر آنے کا جو کارڈ کھیلا ہے یہ ان کا آخری کارڈ تھا لیکن کامیاب اس نے بھی نہیں ہونا ۔ اس لئے کہ حکومت کو بھی اس بات کا اندازہ تھا اسی لئے خان صاحب کے اعلان سے چند دن پہلے ہی میڈیا میں پنجاب حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں اور اس سلسلے میں زرداری صاحب کو تمام اختیارات کے ساتھ ٹاسک سونپ دیا گیا تھا ۔ اس لئے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت ستو پی کر بیٹھی ہوئی ہے یہ ان کی بھول ہے او ر آنے والے چند دنوں میںاس حوالے سے صورت حال واضح ہو جائے گی اور اگر پنجاب میں حکومت تبدیل ہو جاتی ہے تو خیبر پختونخوا میں کئے جانے والے ایڈونچر کا ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ جو بھی اثر پڑے گا وہ اب خان صاحب پر ہی پڑے گا اور خان صاحب کو ملک میں مزید بے یقینی اور بد امنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ہر گذرتے دن کے ساتھ خان صاحب اور تحریک انصاف کے وہ لوگ جن پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کے گرد گھیرا تنگ ہوتا چلا جائے گا اور کرپشن سے پاک نام نہاد صاف اور شفاف قیادت کا جو بت تراشا گیا تھا وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا ۔