سنگاپور: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر آپ امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آخری وقت میں بہت زیادہ پڑھنے سے بہتر ہے کہ کچھ دیر سوجائیے کیونکہ اس سے امتحان میں آپ کی کارکردگی بہتر ہوجائے گی۔برسوں سے یہ بات تو معلوم ہے کہ وہ طالب علم جو امتحان کا خوف اپنے سر پر سوار کرنے کے بجائے ایک رات پہلے آرام کرتے ہیں اور صبح تازہ دم ہوکر کمرہ امتحان میں پہنچتے ہیں وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کے نمبر بھی اچھے آتے ہیں۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے امتحان کی تیاری کر رکھی ہو۔

ان کے برعکس وہ طالب علم جو پورا سال آرام کرنے کے بعد امتحان قریب آنے پر ہوش میں آتے ہیں اور صرف چند دنوں کے لیے روزانہ کئی کئی گھنٹوں تک پڑھائی کرنے کے علاوہ امتحان سے پہلے کی پوری رات بھی جاگ کر تیاری کرتے ہیں وہ نہ تو کمرہ امتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر پاتے ہیں اور نہ ہی امتحان میں ان کے اچھے نمبر آتے ہیں۔اب اس بات کی تصدیق ایک نفسیاتی مطالعے سے بھی ہوگئی ہے جو سنگاپور کے ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول میں انجام دیا گیا، مطالعے میں 72 طالب علم شریک کیے گئے ان سب کو پہلے 80 منٹ تک ایک ایسے موضوع کے بارے میں لیکچر دیا گیا جس کے بارے میں وہ پہلے سے نہیں جانتے تھے۔

لیکچر کے بعد انہیں 3 گروپوں میں تقسیم کردیا گیا جن میں سے ایک گروپ نے اگلے ایک گھنٹے تک اپنی من پسند فلم دیکھی، دوسرا گروپ سونے (آرام کرنے) چلا گیا جب کہ تیسرے گروپ نے اس دوران وہی لیکچر دُہرایا جو کچھ دیر پہلے دیا گیا تھا۔منتخب کیے گئے طالب علموں میں 80 منٹ کا ایک اور لیکچر دیا گیا جس کے بعد ایک ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کیا گیا کہ پہلے لیکچر کے دوران پڑھائی گئی باتیں انہیں کس حد تک یاد ہیں۔ ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ طالب علم جو درمیان میں ایک گھنٹے کے لیے سوگئے تھے (یا قیلولہ کررہے تھے) انہوں نے باقی 2 گروپوں کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ وہ گروپ جو مسلسل پڑھتا رہا اس کی کارکردگی دوسرے نمبر پر رہی۔

ایک ہفتے بعد ان ہی طالب علموں پر یہی تجربہ ایک بار پھر دُہرایا گیا اور وہی نتائج حاصل ہوئے جن سے ثابت ہوا کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک پڑھنا اور آرام نہ کرنا ہماری اکتسابی (سیکھنے کی) صلاحیت پر برے اثرات ڈالتا ہے۔ اندازہ ہے کہ آرام کے لیے مناسب وقت ملنے کی صورت میں دماغ کو نئی معلومات ذخیرہ کرنے کی مہلت مل جاتی ہے اور یہ یادیں ’’طویل مدتی یادداشت‘‘ کا حصہ بھی بن جاتی ہیں۔ اگر کچھ وقت گزرنے کے بعد نئی معلومات دماغ میں پہنچیں تو وہ سہولت سے محفوظ ہوں گی جب کہ یادداشت میں پہلے سے موجود معلومات پر بھی اثر نہیں پڑے گا۔

مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معلومات ذہن میں زبردستی ٹھونسنے (یعنی ’’رٹّا‘‘ لگانے) کا وقتی فائدہ ضرور ہوتا ہے لیکن لمبے عرصے میں یہ عمل کچھ خاص مفید ثابت نہیں ہوتا۔ تعلیم و تدریس کے میدان میں اس مطالعے کی روشنی میں نئی پالیسیاں مرتب کرنے میں خاصی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔