خاموش قاتل

خاموش قاتل

اپنے ذاتی موبائل یا لیپ ٹاپ پر رات کی تنہائی میں بالی وڈ یا ہا لی وڈ کی موویز دیکھنے کی بجائے پورن موویز دیکھنے میں کسی کا کیا جاتا ہے۔آخر اپنی فرسٹریشن بھی تو کم کرنی ہے۔یہ وہ جواز ہے جو اکژ سننے کو ملتا ہے۔فحش مواد دیکھنے سے کسی کا تو کچھ نہیں جا تا لیکن خود کا بہت سا نقصان ہوتا ہے جس کا ادراک ہوتے ہوتے بہت وقت گزر جاتا ہے۔


پورنو گرافی کا باقاعدہ آغاز تو سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں  صلیبی جنگوں کے دور ان ہوا  جب اسے مکمل منصوبہ بندی اور سازش کے تحت مسلمان فوج کو شکست دینے کیلئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا گیا ۔اب جو چیز خاص الاخاص اسلام دشمن عناصرکی طرف سے آپ کو شکست دینے اور کمزور کرنے کیلئے شروع کی جائے اس کا نقصان کیسے نہیں ہوسکتا۔

 ایک تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہونے والے مواد میں جارہیت اور تشدد دکھایاجاتا ہے۔ جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں ۔ڈوپامین (دماغ میں پایا جانے والا مرکب )  اکثر اوقات یہ فحش مواد ڈوپامین کو اس حد تک متحرک کر دیتا ہے کہ اس سے احساس ہونے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ خوشی تو کہیں اور مل ہی نہیں سکتی اور انسان اس کا عادی ہوتا جاتا ہے بالکل نشہ کی طرح۔ اب تک کی تحقیقات کے بعد ریسرچرز کا یہ بھی خیال ہے کہ مردوں کی سٹریاٹیم (دماغ کا ایک حصہ جو لذت کا احساس دلاتا ہے) کثرت سے فحش مواد دیکھنے سے سکڑتی ہے۔اس کے علاوہ اس قسم کا مواد دیکھنے والے لوگ  خاتون کو  جنسی تسکین پہنچانے والی ایک شے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جو کہ رشتوں کے تقدس کو ختم کرنے کا باعث ہے۔جیسا کہ آجکل یورپی ممالک میں ہے۔ فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے  جنسی جذبات، صبر، یادداشت اور توجہ کی کمی بھی واقع ہو تی ہے۔جس کی وجہ سے   زنا، طلاق، تشدد اور خودکشی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

ان  فحش فلموں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے ضروری نہیں کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی موجود ہو  بلکہ وہ سب تو سکرپٹیڈ ہوتا ہے لیکن اکژ لوگ  حقیقت کو سمجھے بغیراس چیز کو اتنا اپنے اوپر سوار کرلیتے ہیں کہ  اپنی حقیقی جنسی زندگی کوخرااب کر بیٹھتے ہیں اور اس میں خود ہی کوئی خامی و غلطی کا اندیشہ ظاہر کرتے ہیں۔جس سے ان کی زندگی کا امن سکون برباد ہوکر رہ جاتا ہے۔

اتنے سارے نقصانات ہونے کے باوجود یہ برائی  دنیا میں  نہ صرف بے انتہا پھیل چکی ہے بلکہ  باقاعدہ ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اور یہ اس وقت 97 بلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے ۔دنیا میں 50 سے 75 فیصد مرد اور خواتین آن لائن پورن سائٹس کو باقاعدہ دیکھتے ہیں ۔ایک اندازہ کے مطابق ان سائیٹس کو سرچ کرنے والے 68 ملین لوگوں میں سے بھی 25 فیصد لوگ لفظ پورن استعمال کرتے ہیں۔اورگزرتے وقت کے ساتھ یہ اتنا عام ہوچکا ہے کہ ہر سیکنڈ تقریباً 30 ہزار لوگ فحش ویب ‌سائٹس کو دیکھتے ہیں اور صرف امریکہ میں ہر گھنٹے بعد تقریباً دو فحش فلمیں ریلیز ہوتی ہیں۔

اس تیزی سے پھیلنے اور اس قدر نقصانات ہونے کے باوجود لوگوں کو اس برائی کا ادراک تک نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا زہر ہے جو خاموشی سے اپنا اثر دکھاتا ہے اور انسان یہی کہتا رہ جاتا ہے کہ اس سے کسی کا کیا جاتا ہے ہاں البتہ تب تک  اپنا بچتا بھی کچھ نہیں ہے۔

فرحان خان 

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)