عوامی نمائندوں کی نااہلی کیلئے دائر درخواستوں پر ایک ہی بار فیصلہ ہوگا: اسلام آباد ہائیکورٹ

Petitions for disqualification of public representatives will be decided only once: Islamabad High Court
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے عوامی نمائندوں کی نااہلی کیلئے دائر درخواستوں پر ایک ہی بار فیصلہ دینے حکم دیدیا ہے۔ عدالت کی جانب سے رجسٹرار آفس کو تمام درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک ہی بار اس معاملے کو نمٹا دینا چاہتے ہیں تاکہ سائلین کو سن سکیں،9  مارچ کو تمام درخواستیں یکجا کر کے مقرر کی جائیں۔ جب کسی عوامی نمائندے کو نااہل کریں تو نقصان حلقے کے عوام کا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ عدالتوں کے ساتھ ہو رہا ہے، عدالتیں کیوں اب یہ سنیں؟ درخواست گزار سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ جہاں قانون کی خلاف ورزی ہو تو فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔ نواز شریف کو بھی عدالت سے ہی نااہل قرار دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ جسٹس کھوسہ نے پارلیمنٹ کو یہ بھی کہا تھا کہ 62 ون ایف میں ترمیم کریں۔ اگر یہ ایسے ہی رہا تو ہم سب اس قانون کے تحت نااہل ہو سکتے ہیں۔ اگر عوام غلط لوگوں کو منتخب کر رہے ہیں انہیں کرنے دیں، سیاسی معاملات کے فیصلوں سے عدلیہ پر اثرات پڑ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں عوام کے فیصلوں پر اعتبار ہے۔ اگر اہلیت اور نااہلی کے فیصلے کرنے ہیں تو عدالت سے باہر کریں۔ اگر ہم نے فیصلہ دیا تو اس بار نااہلی کی تمام درخواستوں کو اکٹھا کرکے دیں گے۔ ایک ہی بار سب پر فیصلہ دے دیتے ہیں تاکہ ہم اصل سائلین کو سنیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر فواد چودھری کیس کی پیروی کیلئے خود عدالت پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے جو کیس آیا، یہ بلیک میلنگ کا کلاسک کیس ہے، عدالت کا کام ہے کہ ہمیں بلیک میلنگ سے بھی بچائے۔ سمیع ابراہیم کی درخواست ہرجانے کے ساتھ خارج کی جائے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ پہلے بلیک میل کرے کوئی، پھر پیسے مانگے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کا فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے سوشل میڈیا پر ججز کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ سیاسی قائدین چاہیں تو گالی کا یہ کلچر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو بلیک میلنگ کا کلچر آپ بتا رہے ہیں اسے تبدیل بھی آپ کر سکتے ہیں۔ ہم اس بلیک میلنگ کے کلچر کیخلاف ہی کھڑے ہیں۔ اس معاشرے کی اخلاقیات ختم ہو چکی ہیں۔ ہم آنے والی نسلوں کو اس کلچر سے تباہ کر رہے ہیں۔