ترکی نائٹ کلب میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 35 ہو گئی

استنبول: ترکی کے اہم شہر استنبول میں سال نو کی تقریبات کے موقع پر ایک نائٹ کلب میں مسلح افراد نے گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم سے کم 35 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے ترک ٹی وی 'این ٹی وی' کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ استنبول کے نائٹ کلب میں حملہ کرنے والے مسلح افراد نے سنتا کلاز کا لباس زیب تن کررکھا تھا۔

استنبول کے گورنر نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'حملے میں 35 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے'۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شہر کے مختلف ہسپتالوں میں کم سے کم 40 افراد کا علاج جاری ہے۔

گورنر نے نائٹ کلب پر حملہ کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں بتایا کہ 'وہ ایک مسلح شخص' تھا۔

ترک حکام کا کہنا تھا کہ حملے سے قبل نائٹ کلب میں 700 کے قریب افراد موجود تھے جو سال نو کا جشن منارہے تھے۔

فوری طور پر واقعے کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترکی کی سرکاری نیو ایجنسی نے حملے میں ملوث افراد کی تعداد دو بتائی تھی۔

ترک میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے نائٹ کلب میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کا سلسلہ تاحال جاری تھا جبکہ مسلح افراد نے کلب میں موجود لوگوں کو یرغمال بنالیا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی بڑی تعداد نے جائے وقوعہ کا رخ کیا جبکہ پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ادھر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سی این این ترک کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر استنبول شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور یہاں 17000 پولیس اہلکار تعینات تھے۔

برطانوی ادارے کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت نائٹ کلب میں سیکڑوں افراد موجود تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولو کا کہنا تھا کہ واقعہ استبنول کے ضلع ارتاکوی میں پیش آیا۔

ترک میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مسلح افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال 2016 میں ترکی کے شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ کو متعدد مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں کم سے کم 180 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، ان حملوں کی ذمہ داری داعش اور کرد علحیدگی پسندوں کی جانب سے قبول کی گئی۔