کمر میں شدید درد اسکی وجوہات اور احتیاط جانیئے اہم معلومات

اسلام آباد: آج کل ہرگھرکاکم ازکم ایک فرد تو ا س مرض شکارنظر آتا ہے۔زیادہ تر خواتین اس مرض کاشکار ہوتی ہے۔مردوں میں اس کی شکایت زیادہ تر ادھیڑ عمر میں ہوتی ہے۔کمرکادرد 20 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو پیش آتا ہے۔اور پھر یہ درد ان لوگوں کو اکثر ہوتا ہے جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔اگر یہ درد معمولی ہوتوتھوڑے عرصے بعد خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔مگر شدید ہوتو دیگر مسائل کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عضلاتی اورہڈیوں کے نظام سے متعلق کمرے کے نچلے حصے کے درد کی بیماری کی تشخیص کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کی سنگین وجوہات کے امکانات پر غور کریں۔

کمر درد کی اقسام:
کمر درد کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

1۔شدید درد
اس قسم کا درد عارضی ہوتا ہے جو چند دنوں تک رہتا ہے۔لیکن ادویات اورقدرتی نسخوں کے استعمال سے چند ہفتوں میں اس کے اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔اس قسم کے درد میں اچانک ہی شدید اور تیز درد محسوس ہوتا ہے۔جو انسانی جسم کو لاحق ہونے والی کسی بیماری کے انتباہ کے طور پر کام کرتا ہے جیسے کہ سرجری،ٹوٹی ہوئی ہڈی،کٹ جانا،جسمانی حادثہ،گرجانا،پھیلنا،چوٹ لگنا یا جھٹکا لگنا وغیرہ۔

2۔دائمی درد
دائمی اور مستقل رہنے والا کمر درد ہے۔اور چوٹ کے ٹھیک ہوجانے کے بعد بھی اس کے سگنل اعصابی نظام میں ہفتوں،مہینوں حتی کہ برسوں تک سرگرم رہتے ہیں۔اسی قسم کے درد میں انسان کے جسم کے عضلات میں کھنچاؤ رہتا ہے۔جس کی وجہ سے وہ آسانی سے حرکت نہیں کرسکتا ہے۔جبکہ جذباتی اثرات میں غصہ،بے چینی،اضطراب اور خوف رہتا ہے۔جو انسان کی روزمرہ معمولات زندگی کوبھی متاثر کرتا ہے۔

علامات:
کمر درد میں کمر کے عضلات کمزور ہوجاتے ہیں۔،چلنے پھرنے سے دردہوتاہے۔کمر درد کے ساتھ ساتھ ٹانگوں میں بھی درد شروع ہوجاتا ہے۔اور یہ درد آہستہ آہستہ کولہے کی طرف محسوس ہوتا ہے۔مریض کوسخت بے چینی ہوتی ہے۔مریض آسانی سے جھک نہیں سکتا۔شدید درد کی صورت میں بخار بھی ہوجاتاہے۔علاوہ ازیں کمر درد میں سر درداور بے خوابی جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔

وجوہات:
خاص وجوہات جوڑوں کی تکلیف ہوتو مریض کو کمر درد کی شکایت بھی ہوتی ہے اور مریض کو ہلکا بخار اور کھانسی بھی ہوجاتی ہے۔خواتین کے خاص امراض میں بھی کمر درد ہوتا ہے۔اس کے علاوہ وزن میں کمی،کیلشیم اور خون کی کمی اوربھوک نہ لگنے سے کمر درد ہو سکتا ہے۔عام وجوہات گھٹنوں یا کمر کے سہارے کے بغیر بیٹھنا۔آگے جھک کر بیٹھنا،اونچی ایڑی والے جوتوں کا استعمال کرنا ،بھاری وزن اٹھانا،خاص طور پر ایک ہاتھ سے وزن اٹھانا،غلط طریقے سے ورزش کرنا،ڈھیلی چارپائی،یا خراب فوم کے گدوں پر سونے سے بھی کمر دردہوتا ہے۔

احتیاط:
ایک ہی پوزیشن میں گھٹنوں پر بیٹھنے سے بچیں،کمر کے پیچھے کوئی سہارااستعمال کریں۔دیوار یا تکیہ کا سہارا لیں۔سیدھی پشت والی کرسیوں کی بجائے خم دار پشت والی کرسیاں استعمال کریں۔برا ہ راست جھک کر زمین سے کوئی چیزنہ اٹھائیں۔جس ورزش سے کمر درد ہوسکتا ہے وہ نہ کریں۔فرش پر سوئیں یا تختہ پر سوئیں۔

ورزش:
آپ بہت سادہ اور سہل ورزشوں کے ذریعہ اپنی کمر کو مضبوط بنا سکتے ہیں اورکمر درد سے نجات پاسکتے ہیں۔یہ ورزش صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد صرف چند منٹ میں مکمل کرتے ہیں۔فرش پر لیٹ جائیں۔گھٹنوں کو خم کر دیں۔اس طرح کے آپ کے پیروں کے تلوے مکمل طور پر فرش پر ہوں۔اب اپنی کمر کو آہستہ سے دبائیں کہ یہ فرش کو چھونے لگے اس طرح آپ کے پیٹ کے مسلز میں سختی پیداہوگی۔

پیٹ کے بل لیٹ جائیں،آپ کا چہرہ فرش کی طرف ہونا چاہیے آپ اپنے پیروں کے ساتھ اس طرح دبائیں کہ آپ کے پنجے باہر کو نکلے ہوں۔آپ اپنے پیٹ کے درمیان والے حصے کو فرش پر دبائیں اس طرح آپ کے کولہوں میں بھی سختی پیداہوگی۔