جے آئی ٹی کا فیصلہ وزیراعظم نوازشریف کے حق میں آئیگا ، سرتاج عزیز

جے آئی ٹی کا فیصلہ وزیراعظم نوازشریف کے حق میں آئیگا ، سرتاج عزیز

لاہور:  وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہاہے کہ جے آئی ٹی کا فیصلہ انشاء اللہ وزیراعظم نوازشریف کے حق میں آئے گا ،ملکی مفاد سب سے پہلے ہیں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،ریمنڈڈیوس کے کیس کے وقت پاک امریکا حالات کافی کشیدہ ہوچکے تھے،کلبھوشن کے معاملے پر پالیسی واضح ہے ،پاکستان کسی ملک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا،سی پیک منصوبہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ ترقی کا راستہ ہے ،سی پیک سے باہر رہ کر بھارت نقصان اٹھا رہاہے ،امریکا کی جانب سے صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کو مستر دکرتے ہیں ۔


ہفتہ کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ جے آئی ٹی تحقیقات کرے انشاء اللہ فیصلہ وزیراعظم نوازشریف کے حق میں آئے گا ،ملکی مفاد سب سے پہلے ہیں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے ہم چین اورروس کیساتھ تعلقات مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔پاکستان کسی ملک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا۔ امریکا پاکستان سے بہترین دوستی کاخواہش مند ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ریمنڈڈیوس کے کیس کے وقت پاک امریکا حالات کافی کشیدہ ہوچکے تھے جبکہ کلبھوشن کے معاملے پر پالیسی واضح ہے ۔انہوں نے کہاکہ کلبھوشن یادیو کی آئی سی جے تک رسائی کوئی بڑا معاملہ نہیں پاکستان اوربھارت کو جواب تیار کرنے کیلئے تین ماہ دئیے گئے ہیں ۔ انہوں نے سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سی پیک منصوبہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ ترقی کا راستہ ہے ،ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ بہت وسیع ہے ،سی پیک سے باہر رہ کر بھارت نقصان اٹھا رہاہے ۔

انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی واضح ہے جبکہ برہان وانی شہید سے متعلق پاکستان نے بھرپور مہم چلائی اورکشمیر میں ہونے والے مظالم دنیا بھر میں اجاگرکریں گے۔ا نہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی دنیا میں تاریخ نہیں ملتی جبکہ اب تو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ہم مکمل طور پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کو پوری دنیا میں اجاگرکریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کو مستر د کرتے ہیں ۔

نیوویب ڈیسک< News Source